03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطوں پر وراثتی حصے کی خریداری کا شرعی حکم
90594میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارا ایک مشترکہ گھر ہے۔ والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب ہمارے ایک بھائی اپنا حصہ طلب کر رہے ہیں۔ اندازاً ان کا حصہ 18 لاکھ یا 20 لاکھ روپے بنتا ہے۔ دونوں فریق اس بات پر راضی ہیں کہ ایک فریق دوسرے فریق کو اس کے حصے کی رقم ادا کر دے، لیکن یک مشت ادا کرنے کے بجائے قسطوں میں ادا کرے گا۔

کیا اس طرح معاملہ کرنا شرعاً درست ہے؟ نیز بعد میں کسی قسم کے جھگڑے یا نزاع کے امکان سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان اس معاملے کی کیا عبارت یا معاہدہ تحریر کیا جانا چاہیے؟ برائے کرم اس کی تفصیل بیان فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر مشترکہ وراثتی گھر میں سے ایک بھائی اپنا شرعی حصہ دوسرے ورثاء یا کسی ایک بھائی کو فروخت کرنا چاہتا ہے اور دونوں فریق اس بات پر رضامند ہیں کہ حصے کی قیمت یک مشت ادا کرنے کے بجائے قسطوں میں ادا کی جائے، تو شرعاً یہ معاملہ جائز ہے، بشرطیکہ معاہدے کے وقت فروخت ہونے والے حصے کی قیمت قطعی اور حتمی طور پر متعین کر دی جائے، محض اندازے پر معاملہ نہ رکھا جائے، نیز قسطوں کی تعداد، ہر قسط کی مقدار اور ادائیگی کی تاریخیں واضح طور پر طے کر لی جائیں۔ معاہدہ مکمل ہوتے ہی فروخت کنندہ اپنے حصے کی ملکیت خریدار کے حق میں منتقل کر دے گا اور خریدار طے شدہ رقم کا مقروض شمار ہوگا۔ قسطوں کی تاخیر کی صورت میں کسی قسم کا اضافی جرمانہ، سود یا زائد رقم لینا جائز نہیں ہوگا، البتہ خریدار شرعاً اور اخلاقاً مقررہ وقت پر ادائیگی کا پابند ہوگا۔ آئندہ کسی نزاع اور اختلاف سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ پورا معاملہ تحریری صورت میں درج کیا جائے، جس میں جائیداد کی مکمل تفصیل، فروخت کنندہ اور خریدار کے نام، فروخت ہونے والے شرعی حصے کی وضاحت، طے شدہ کل قیمت، قسطوں کی مکمل تفصیل، ادائیگی کا طریقہ، ملکیت کی منتقلی اور دیگر متعلقہ شرائط واضح طور پر لکھی جائیں، اور اس دستاویز پر فریقین کے ساتھ کم از کم دو گواہوں کے دستخط بھی لیے جائیں، تاکہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے، بدگمانی یا حق تلفی کا اندیشہ نہ رہے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 261)

جهالة مفضية إلى المنازعة فيمتنع التسليم والتسلم، وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز، هذا هو الأصل {وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه - عليه الصلاة والسلام - «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 43)

(المادة 214) : بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 50)

(المادة 245) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح

(المادة 246) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط

(المادة 247) إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع

(المادة 248) تأجيل الثمن إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يكون مفسدا للبيع.

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا [البقرة: 282]

تنوير المقباس من تفسير ابن عباس (ص: 40)

 {يَا أَيهَا الَّذين آمنُوا} بِاللَّه وَالرَّسُول {إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى} إِلَى وَقت مَعْلُوم {فاكتبوه} يَعْنِي الدّين {وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ} بَين الدَّائِن والمديون {كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ} بِالْقِسْطِ {وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ} بَين الدَّائِن والمديون (كَمَا عَلَّمَهُ الله) الْكِتَابَة (فَلْيَكْتُبْ) بِلَا زِيَادَة وَلَا نُقْصَان الْكتاب {وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحق} وليملل أَي ليبين الْمَدْيُون على الْكَاتِب مَا عَلَيْهِ من الدّين {وَلْيَتَّقِ الله رَبَّهُ} وليخش الْمَدْيُون ربه {وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئاً} وَلَا ينقص مِمَّا عَلَيْهِ من الدّين شَيْئا فِي الْإِمْلَاء.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22/12/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب