| 90389 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
سوال :کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مانسہرہ شہر کی مغرب کی جانب متصل آبادی ،دو پٹرول پمپ پر آکر ختم ہو جاتی ہے ۔ آخری پٹرول پمپ سے تقریباً 1.5 کلومیٹر کے فاصلہ پر سی پیک سڑک شروع ہوتی ہے۔ یہاں اس مقام پر ایک ٹول پلازہ ، بجلی گریڈ سٹیشن ، پولیس چوکی ،بڑی گاڑیوں کے وزن کیلئے کمپیوٹرائز کانٹا ، اور بڑی 22ویلر گاڑیوں پر سفید پتھر کی لوڈنگ ، ان لوڈنگ کا اڈہ بھی ہے۔ اور ساتھ ہی ایک آٹا مل ہے جو فی الحال بند ہے، اور بڑے بڑے مرغی فارمز بھی ہیں۔
۱) - اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ مل کے جنوبی جانب تقریباً 300 فٹ کے فاصلے پر نئی پلاٹنگ ہو رہی ہے، جس میں اب تک تقریباً دس گھر آباد ہو چکے ہیں۔اسی محلہ میں ایک مسجد و مدرسہ بھی ہے۔اب اس محلہ کو فناء مصر میں شمار کر کے یہاں جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ۔؟
2)- مذکورہ بالا پمپ سے ٹول پلازہ تک جانے والی (1.5کلو میٹر) سڑک کے دائیں بائیں بھی تقریباً 60/50 مکانات ہیں جن میں مساجد بھی ہیں۔ ان میں جمعہ کا کیا حکم ہے ؟.
تنقیح سوال : سائل کے کہنے کے مطابق مذکورہ علاقوں میں جواب میں ذکرکردہ شرائط موجود نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جمعہ کے صحیح ہو نے کے لئے شہر ،مضافاتِ شہر یا بڑی بستی کا ہو نا شرط ہے :
1۔ شہر :
شہر کی تعریف یہ ہے کہ اس کو عرف میں شہر شمار کیا جاتا ہو ۔ اور عرف میں شہر کے لئے یہ لازم ہے کہ گلی کوچے ہوں ، ایسابازار ہوجس میں دو نوں جانب باہم متصل دوکانیں ہوں ، عمارتیں پختہ ہوں ، اور ضرورت کی اکثر اشیاء مل سکتی ہوں ۔
2: بڑی بستی :
عرف میں جس جگہ کو قصبہ کہا جاتا ہو،وہ بڑی بستی ہے جو اپنی ہیئت کے اعتبار سے شہر سے چھوٹی ہو تی ہے ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ وہاں چالیس پچاس دکانوں پر مشتمل ایسا بازار ہو جو روزانہ لگتا ہواور اس میں روزمرہ کی ضروریات مل جاتی ہو ں ، آبادی اتنی ہو کہ اسے قصبہ کہا جاسکے ، وہاں حکومت کی طرف سے تھانہ ، عدالت اور انتظامی دفاتر قائم ہوں ۔ روزمرہ کی ضروریات سے مراد بنیادی تین چیزیں ہیں :
الف۔ کھانے ، پینے اور پہننے کی اشیاء ۔
ب۔دینی اور عصری تعلیم کے مراکز ،جہاں کم ازکم میٹرک تک تعلیم دی جاتی ہو ۔
ج۔ صحت کے مراکز جو بنیادی علاج معالجہ فراہم کرتے ہوں ۔
3۔ فناء شہر :
اس سےمراد وہ مقام جو شہر کی ان ضروریات کی لئے متعین ہوں جن کا تعلق رہائش اور سکونت سے ہو ۔خواہ شہر سے متصل ہوں یا مسافت پر ؛ مثلا :قبرستان ، ہوائی اڈہ، ریلوے سٹیشن ، کوڑا ڈالنے کی جگہ ، گھڑ دوڑ کا میدان وغیرہ ۔
ان تفصیلات کی روشنی میں مذکورہ دونوں علاقے نہ شہر ہیں ، نہ مضافات شہر اور نہ قصبہ؛ لہذا وہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں، بلکہ ظہر کی نماز باجماعت ادا کی جائےگی ۔ یہاں جمعہ کی نماز جماعت سے پڑھنے سے ظہر کا فر يضہ ذمےسے ساقط نہیں ہوگا۔ البتہ پلاٹنگ کا معتد بہ حصہ بنتے ہوئے اور مکمل ہو جانے کے بعد اس مسئلے کے بارے میں دریافت کیا جائے ۔اور اب بھی مقامی مفتیان کرام کو محل وقووع دکھا کر ان سے رائے لے لی جائے۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 259):
«وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 137):
«قوله ويشترط إلخ) قال في النهر: ولها شرائط وجوبا وأداء منها: ما هو في المصلى. ومنها ما هو في غيره والفرق أن الأداء لا يصح بانتفاء شروطه ويصح بانتفاء شروط الوجوب ونظمها بعضهم فقال:
وحر صحيح بالبلوغ مذكر … مقيم وذو عقل لشرط وجوبها
ومصر وسلطان ووقت وخطبة … وإذن كذا جمع لشرط أدائها»
«المبسوط» للسرخسي (2/ 23):
فأما الشرائط في غير المصلى لأداء الجمعة فستة المصر والوقت والخطبة والجماعة والسلطان والإذن العام أما المصر فهو شرط عندنا وقال الشافعي - رضي الله تعالى عنه -: ليس بشرط فكل قرية سكنها أربعون من الرجال لا يظعنون عنها شتاء ولا صيفا تقام بهم لما روي أن أول جمعة جمعت في الإسلام بعد المدينة جمعت بجواثى وهي قرية من قرى عبد القيس بالبحرين وكتب أبو هريرة إلى عمر - رحمه الله تعالى - يسأله عن الجمعة بجواثى فكتب إليه أن جمع بها وحيثما كنت.
(ولنا) قوله عليه الصلاة والسلام «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع» وقال علي - رضي الله تعالى عنه - لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ولأن الصحابة حين فتحوا الأمصار والقرى ما اشتغلوا بنصب المنابر وبناء الجوامع إلا في الأمصار والمدن وذلك اتفاق منهم على أن المصر من شرائط الجمعة»
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 82):
«لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وهذا عند أبي يوسف رحمه الله وعنه أنهم إذا اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم والأول اختيار الكرخي وهو الظاهر والثاني اختيار الثلجي والحكم غير مقصور على المصلي بل تجوز في جميع أفنية المصر لأنها بمنزلته في حوائج أهله»
اسداللہ بن قوت خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29 /ذوالقعدہ/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


