03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دادی کی میراث میں پوتے،پوتیوں کاحصہ
90565میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرح متین اس مسئلےکےبارےمیں،میرےداداکاانتقال 1949 کوہوا تھا اوردادی کاانتقال1996 کوہواتھا،ان کےتین بیٹےاورایک بیٹی تھی،بڑےبیٹےشیخ موسی کاانتقال1988 کوہوا، شیخ موسی غیرشادی شدہ تھے۔اس کےبعدمیرےوالدشیخ عبدالحمید،ان کاانتقال 1986 کوہوااورعبدالحمیدکی بیوی کاانتقال 1992 کوہوا۔میرےوالدکاایک لڑکااورتین لڑکیاں ہیں اورمیری پھوپھی کاانتقال 2001 کوہواجو غیرشادی شدہ تھی۔اس کےبعدمیرےچاچاشیخ ابراہیم کاانتقال 1993 کوہوا،ان کی بیوی شیخ رحیم النسا کاانتقال 1999کو ہوا،ان کی کوئی اولادنہیں تھی۔

اب دادی کی جائیدادکس طرح تقسیم ہوگی؟عبدالحمیدکاایک لڑکامحمدبلال اورتین لڑکیاں بڑی لڑکی سلمہ شیخ، اس کےبعدحمیرامیمن،سب سےچھوٹی لڑکی عائشہ سورہ دیاہے۔اس مسئلےپرقرآن اورحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیےاورعنداللہ ماجورہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نےصرف دادی کےترکےکی تقسیم پوچھی ہے،اس کا جواب درج ذیل ہے:

 میت کےترکےمیں صرف وہ ورثہ حصہ پاتےہیں جواس کی وفات کےوقت زندہ ہوتے ہیں، چونکہ آپ کی پھوپھی آپ کی دادی کےانتقال کے وقت زندہ تھیں،لہذاکل ترکےکا آدھاحصہ آپ کی پھوپھی کاتھا اورآدھا آپ بہن، بھائیوں کے درمیان اس طورپرتقسیم ہوناتھاکہ دوحصےبھائی کواورایک،ایک حصہ ہربہن کوملتا۔ پھرپھوپھی کےانتقال کےبعدان کامکمل ترکہ آپ کوملےگا،آپ کی بہنوں کوآپ کی پھوپھی کےترکےسےکچھ نہیں ملےگا۔ لہٰذا دادی کا تمام ترکہ آپ اور آپ کی بہنوں کے درمیان درج ذیل طریقےسےتقسیم کیاجائےگا:

کل ترکے کے دس حصے کریں: آپ کو سات حصے(70%)اور تینوں بہنوں کو ایک، ایک حصہ(10%,10%) ملے گا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (6/ 448)

فإن كانت ابنة الصلب واحدة فلها النصف والباقي بين أولاد الابن للذكر مثل حظ الأنثيين، كذا في المبسوط.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 765)

بخلاف ابن الابن وإن سفل فإنه يعصب من مثله أو فوقه ممن لم تكن ذات سهم۔

اللباب في شرح الكتاب (4/ 194)

(والابن وابن الابن والإخوة) لأبوين أو لأب كما مر (يقاسمون أخواتهم للذكر مثل حظ الانثيين) لأن أخواتهم يصرن عصبة بهم، أما البنات وبنات الابن فلقوله تعالى: {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين}۔

ملتقى الأبحر (ص: 503)

والعصبة بنفسه ذكر ليس في نسبته إلى الميت أنثى وهو يأخذ ما أبقته الفرائض، وعندالإنفراد يحرز جميع المال وأقربهم جزء الميت، وهو الابن وابنه وإن سفل ثم أصله وهو الأب والجد الصحيح، وإن علا ثم جزء أبيه وهم الأخوة لأبوين أو الأب ثم بنوهم وإن سفلوا

فیصل حیات بن خان بہادر

دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی

01/ذو الحجۃ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب