03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی رضامندی کے بغیر بیوی کا عدالت سے خلع لینے کا حکم
92145طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میرا نکاح محترمہ زیب النساء دختر اللہ دتہ سے مورخہ 4 دسمبر 2010ء کو شرعی طریقے کے مطابق ہوا۔ تقریبانو سال ازدواجی زندگی معمول کے مطابق گزری۔ستمبر 2019ء میں گھر یلو  رنجش کے بعد بیوی نے مورخہ 21 ستمبر 2019ء کو فیملی کورٹ شور کوٹ میں خلع تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کیا۔ مورخہ 15 جنوری 2020 ء کو شوہر نے عدالت میں واضح بیان دیا کہ وہ بیوی کو ہر شرط پر اپنے گھر آباد رکھنے کے لیے تیار ہے، جبکہ بیوی نے ساتھ رہنے سے انکار کیا۔ عدالت نے بعد ازاں خلع / تنسیخ نکاح کا فیصلہ                                                           یو نین کو نسل کو ارسال کیا۔عرض گزار کے مطابق یو نین کو نسل نے 15 جنوری 2020ء سے 4 اپریل 2022ء تک اسے نہ کوئی نوٹس دیا، نہ اطلاع دی اور نہ کارروائی کے لیے طلب کیا، اور 4 اپریل 2022 ء کو طلاق / تنسیخ نکاح کا سر ٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس کا علم اسے بعد میں ہوا۔ عرض گزار نے اپنی طرف سے کبھی طلاق نہیں دی۔مزید یہ کہ اس کے بعد بھی دونوں کے درمیان رابطہ ، ملاقاتیں اور بعض مواقع پر شب گزاری ہوتی رہی۔ اب خاندان کے بزرگ صلح کی کوشش کر رہے ہیں۔

1 - کیا مذکورہ حالات میں شرعا نکاح ختم ہو چکا ہے یا بدستور قائم ہے؟

2۔ اگر نکاح شر عابر قرار ہے تو کیا دونوں باہمی صلح سے اس سابقہ نکاح کے تحت دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کر سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     (1)  شوہر کی غیر موجودگی اور اس کی رضامندی کے بغیر خلع کا سرٹیفکیٹ یا ڈگری  شرعامعتبر نہیں ، اور نہ  اس کی وجہ سے میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر  پڑتا ہے ، کیونکہ جمہور فقہا ء کے نزدیک خلع کے درست ہونے کے لیے میاں  اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اگر دونوں میں سے کسی ایک کی رضامندی نہ ہو تو وہ خلع شرعا درست نہیں ہوگا، اور نہ ہی کسی عدالت ، یونین کونسل  یا جرگے کو یہ اختیار ہے کہ وہ زوجین میں سے کسی ایک کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے۔ البتہ چند مخصوص صورتوں  میں عدالت   بیوی کی  درخواست پر خلع کا فیصلہ دے سکتی ہے  ۔لہٰذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل  اور منسلکہ دستاویزات کے مطابق میاں بیوی کا  نکاح ختم نہیں ہوا ہے ،بلکہ  بدستور قائم ہے۔

 (2)   اب اگر   دونوں   خاندان   آپس میں صلح کریں     تو  یہ میاں بیوی آپس میں سابقہ نکاح کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):

أما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول....

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص165):

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: نص القانون رقم 25 سنة 1920 على اثنتين منها: وهما التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب. ونص القانون رقم 25 سنة 1929 على الثلاث الباقية وهي التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 271):

ولا بد من قبولها؛ لأنه عقد معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولأن المعلق ينزل بدون الشرط إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع(3/ 145):

وإنما اختلف الجانبان في كيفية هذا النوع لأنه طلاق عندنا، ومعلوم أن المرأة لا تملك الطلاق، بل هو ملك الزوج لا ملك المرأة، فإنما يقع بقول الزوج وهو قوله: خالعتك فكان ذلك منه تطليقا..

وسیم اکرم بن محمد ایوب  

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

13/ربیع الثانی/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب