| 92339 | جائز و ناجائزامور کا بیان | لباس اور زیب و زینت کے مسائل |
سوال
ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہاتھوں اور پیروں کے ناخن کاٹنے کی ترتیب اور طریقہ سے متعلق کوئی بھی صحیح روایت آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے، لہذا کسی بھی طریقہ سے ناخن کاٹ سکتے ہیں، البتہ احادیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ دائیں طرف سے ابتدا کرنے کو پسند کرتے تھے، اس لیے بعض فقہاء واکا برین نے ناخن کاٹنے کی یہ ترتیب نقل کی ہےجسے سلف صالحین کے پسندیدہ ہونے کی وجہ سے "مستحب" بمعنی "ماأحبه السلف" کہہ سکتے ہیں:
” ابتدا دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے کرکے ترتیب وار چھوٹی انگلی کے ناخن تک کاٹے جائیں، اور پھر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے ترتیب وار انگوٹھے تک کاٹے جائیں، اور پھر آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹ لیا جائے۔ اور پاؤں کی انگلیوں میں دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے ترتیب وار بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی تک کاٹے جائیں“۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 406):
"وفي شرح الغزاوية روي «أنه صلى الله عليه وسلم بدأ بمسبحته اليمنى إلى الخنصر ثم بخنصر اليسرى إلى الإبهام وختم بإبهام اليمنى» وذكر له الغزالي في الإحياء وجها وجيها ولم يثبت في أصابع الرجل نقل، والأولى تقليمها كتخليلها.قلت: وفي المواهب اللدنية قال الحافظ ابن حجر: إنه يستحب كيفما احتاج إليه ولم يثبت في كيفيته شيء ولا في تعيين يوم له عن النبي صلى الله عليه وسلم"
محمدحمزہ بن غلام مصطفی
دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ بن غلام مصطفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


