03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے اور درمیان سے مانگ نکالنے کا حکم
92338جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

کیا آپ ﷺ  ایک دن چھوڑ کر کنگھی فرمایا کرتے تھے؟ بیچ کی مانگ نکالنا سنت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعتِ اسلامیہ میں بالوں کی صفائی اور سلیقے سے رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کے بال ہوں، وہ ان کی نگہداشت اور اکرام کرے۔‘‘ یعنی انہیں صاف ستھرا اور مناسب حالت میں رکھے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا اور ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنے کی ہدایت فرمائی۔ لہٰذا بلا ضرورت ہر روز کنگھی کرنے کے بجائے ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنا سنتِ نبوی سے ثابت ہے۔

رہی سر کے درمیان سے مانگ نکالنے کی بات، تو یہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؛ اس لیے درمیان کی مانگ نکالنا سنت کے مطابق ہے۔ تاہم اصل مقصود صفائی، سلیقہ اور اعتدال کے ساتھ رہنا ہے، ہر وقت بننے سنورنے میں مشغول رہنا شریعت کا مطلوب نہیں۔

حوالہ جات

«سنن الترمذي» (3/ 361):

"عن عبد الله بن مغفل قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الترجل إلا غبا."

بذل المجہود (43/17):

والغِبُّ: أن یفعل یومًا ویترک یومًا، والمراد بالنہي ترک المواظبۃ علیہ والاہتمام بہ؛ لأنہ مبالغۃ في التزین، وہٰذا عند عدم الضرورۃ، وإن دعت الضرورۃ إلی الترجیل کل یوم لا بأس بہ۔

«صحيح البخاري» (7/ 163):

"حدثنا ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه، وكان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رؤوسهم، فسدل النبي صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد."

محمدحمزہ بن غلام مصطفی

 دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ بن غلام مصطفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب