| 92567 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
تقریباً تین سال پہلے میں نے والدین کی مرضی کے بغیر ایک لڑکے سے نکاح کیا تھا۔ لڑکے کے گھر والے بھی اس نکاح پر راضی نہیں تھے، اسی لیے ہم نے گھر والوں سے چھپ کر نکاح کیا تھا۔ نکاح کے بعد ہم دو دن ایک ہوٹل میں ساتھ رہے۔ ان دنوں مجھے حیض (مینسز) آئے ہوئے تھے، ہم نے ہمبستری کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حیض کی وجہ سے ہمبستری مکمل نہیں ہو سکی۔
اس کے ایک ہفتے بعد میرے شوہر مجھ سے ملنے کراچی آئے اور ہم دوبارہ ہوٹل میں ملے۔ اسی دوران ان کے والد کا فون آیا کہ "اس لڑکی کو طلاق دے کر آؤ"، لیکن اس وقت شوہر نے مجھے طلاق نہیں دی۔ اس کے ایک دن بعد شوہر نے مجھے فون کیا اور جیسے ہی انہوں نے طلاق کا لفظ بولنا چاہا، میں نے بات سمجھ کر فون کاٹ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے ایس ایم ایس (SMS) پر تین بار لکھ کر بھیجا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں" اور پھر وہ میسج ڈیلیٹ کر دیے۔
طلاق کا میسج بھیجنے کے دو دن بعد شوہر میرے پاس آئے اور ہم ایک بار پھر ہوٹل کے روم میں ملے۔ اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد ہم نے دوبارہ نکاح کیا، اور اس دوسرے نکاح کے بعد سے اب تک ہم اکٹھے رہ رہے ہیں۔ ہمارا ایک بچہ ہے اور دوسرے بچے کی آمد متوقع ہے۔ کچھ ماہ پہلے ایک مولوی صاحب نے فتویٰ دیا تھا کہ ہمارا یہ رشتہ جائز ہے، لیکن اس کے باوجود میرے دل میں شدید بے چینی ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہے کہ کہیں ہم کسی حرام یا ناجائز رشتے میں تو نہیں رہ رہے۔ دریافت طلب امور یہ ہیں:
۱۔ کیا میسج (SMS) پر دی گئی تین طلاقوں سے طلاقِ مغلظہ واقع ہو گئی تھی؟
۲۔ طلاق کے میسج کے ایک ہفتے بعد کیے گئے دوسرے نکاح کے بعد کیا ہمارا یہ رشتہ شرعاً حلال اور جائز ہے یا نہیں؟
تنقیح: ہفتے بعد دوسری بار جب شوہر ملنے کراچی آئے تو بیوی حیض میں نہیں تھی۔ دونوں نے کچھ دیر تنہائی میں ساتھ وقت گزارا، گلے ملے اور باتیں کیں، ہمبستری نہیں ہوئی، پھر شوہر لڑکی کو گھر چھوڑ کر چلا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ تفصیل کے مطابق آپ کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، اور دونوں کاازدواجی تعلق مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اب آپ اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں،جب تک آپ عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاحِ صحیح کے بعدہمبستری نہ کرلیں، پھر وہ خودطلاق دے یا فوت ہو جائے، پھر اس کی عدت گزار کر آپ اس شخص سے نکاح کرسکتی ہیں۔
طلاق کے ایک ہفتے بعد کیا گیا دوسرا نکاح شرعاً درست نہیں ہوا اور اس کے بعد میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا جائز نہیں تھا۔دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں۔
البتہ یہ دوسرا نکاح شبہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا، اس لیےاس سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب شوہر سے ثابت ہے، اور علیحدگی کے بعد عورت پر عدت لازم ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار (3/ 114-119):
(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء ... (كالوطء) فيما يجيء ... في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها ... وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار. (قوله وفي تأكد المهر) أي في خلوة النكاح الصحيح، أما الفاسد فيجب فيه مهر المثل بالوطء لا بالخلوة كما سيذكره المصنف في هذا الباب لحرمة الوطء فيه، فكان كالخلوة بالحائض (قوله والعدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا…والحاصل أنه إذا خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لا تقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لا يلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 166):
ولا رجعة له بعد الطلاق الصريح بعد الخلوة وأما في حق وقوع طلاق آخر ففيه روايتان والأقرب إلى الصواب الوقوع؛ لأن الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع كذا في الذخيرة.
الدر المختار مع رد المحتار (3/ 286):
(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل.
(قوله بخلاف الموطوءة) أي ولو حكما كالمختلى بها فإنها كالموطوءة في لزوم العدة، وكذا في وقوع طلاق بائن آخر في عدتها، وقيل لا يقع والصواب الأول كما مر في باب المهر نظما وأوضحناه هناك.
الفتاوى الهندية (1/ 378):
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب...ا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 205):
وعليها العدة إلحاقا للشبهة بالحقيقة في موضع الاحتياط وتحرزا عن اشتباه النسب ويعتبر ابتداؤها من وقت التفريق لا من آخر الوطآت هو الصحيح لأنها تجب باعتبار شبهة النكاح ورفعها بالتفريق ويثبت نسب ولدها لأن النسب يحتاط في إثباته إحياء للولد.
ظہوراحمدبن خیردادخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
3 /جمادی الاولی/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


