03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر عدالتی خلع کا حکم
91846طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی پھوپھو کے بیٹے سے ہوئی، جو کہ پنجاب سے تعلق رکھتا تھا، میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوں، جبکہ میرے شوہر ان پڑھ یہاں تک کہ قرآن کی تعلیم بھی حاصل نہیں کی، میرے شوہر ایک شکی مزاج انسان تھے، اس نے شادی کے دوسرے دن ہی میرے اوپر الزامات لگانے شروع کر دیے، اس کے کہنے کے مطابق تم نے اتنی تعلیم حاصل کی ہے تو ضرور تمہارے لڑکوں کے ساتھ ناجائز تعلقات رہے ہوں گے، حالانکہ میں نے میٹرک ام حبیبہ سےحاصل کی اور اس کے بعد بھی گرلزکالج میں تعلیم حاصل کی، ہر بات پر گالم گلوچ کرتا، یہاں کہ میرے والدہ اور والدہ کو بھی گالیاں دیتا، مجھے ذہنی ٹارچر کرتا، میں نے اسے کام کرنے کا کہا توکہنے لگا، میرا کام کرنے کو دل نہیں کرتا، ایسا کرتے ہیں کہ ہم لاہور چلتے ہیں، وہ ایک عیاش شہر ہے، وہاں تم ناجائز طریقے سے کمانا، میں کھاؤں گا۔ یہ تین چار مرتبہ اس نے کہا، پھر مجھے کہتا کہ تم مجھے اپنی دوستوں کے نمبر دو، میں ان سے رابطہ کروں گا اور تم میرے دوستوں کا نمبر مجھ سے لے کر ان سے بات کر لینا۔ ایک مہینہ کے بعد وہ مجھے میری امی کے گھر چھوڑ کر چلا گیا، جب گھر والوں نے مجھے لے جانے کا کہا تو کہنے لگا میں نے تو ضد میں آکر شادی کی تھی، وہ ضد پوری ہو گئی، اب میں لینے کے لیے نہیں آؤں گا اور نہ ہی طلاق دوں گا، تم خود طلاق لینا چاہو تو لے لو۔ جب گھروالوں نےخرچہ کی بات کی تو کہنے لگا کہ یہ اپنی ماں کے گھر رہ رہی ہے، اس لیے خرچہ نہیں دوں گا۔ ڈیڑھ سال کے بعد لینے کے لیے آیا تو گھر والوں کے دباؤ پر میں جانے کے لیے تیار ہو گئی، مگر میرے جانے سے پہلے اس نے کال پر مجھ پرپھر الزامات لگائے تو میں نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور طلاق کا مطالبہ کر دیا، اس نے دوبارہ پھر وہی کہا کہ میں طلاق نہیں دوں گا، بلکہ مجھے اور میرے گھر والوں کو مارنے کی دھمکیاں دینے لگا، اس کے بعد ہم نے ہر طرح کوشش کی کہ یہ طلاق دے دے، مگر وہ دینے کے لیے تیار نہ تھا، بالآخر ہم نے کورٹ میں خلع کا کیس دائر کر دیا۔ یہ ساری تفصیل میں نے اپنے دعوی میں ذکر کی اور عدالت کی طرف سے ایک تحریر دی گئی، جس پر حلفیہ بیان کے ساتھ دعوی کی تصدیق مطلوب تھی، اس پر میرے بھائی اور والدہ نے بطور گواہ دستخط کیے۔ عدالت نے اس کو تین نوٹس جاری کیے، مگر وہ نہ آیا، بالآخر عدالت نے مجھے خلع کی ڈگری جاری کر دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا میرا نکاح عدالتی فیصلے کی رُو سے باقی ہے یا ختم ہو چکا؟ شریعت اس بارے میں فرماتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً شخص مذکور نے آپ کو آپ کی والدہ کے گھر چھوڑ کر ڈیڑھ سال تک مطالبہ کرنے کے باوجود نان ونفقہ نہیں دیا اور آپ نے عدالت میں نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دعوی دائر کیا اور بطورِ ثبوت حلفیہ بیان تحریر کر کے اس پر اپنے بھائی کے دستخط کروا کر عدالت میں پیش کیے تو اس صورت میں شخصِ مذکور کے عدالت میں حاضر نہ ہونے پر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا فیصلہ معتبر اور نافذ ہے اور فیصلہ میں  لکھے گئے خلع کے الفاظ کو فسخِ نکاح پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ خلع کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے، جبکہ عدالت کی طرف سے کیا گیا فسخِ نکاح معتبر وجہ کی بنیاد پر ثبوت کی روشنی میں درست اور نافذ ہوتا ہے، لہذا فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے آپ کی عدت شروع ہو چکی ہے اور عدت مکمل ہونے پر آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب