| 92471 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
میں قسطوں پر سامان فراہم کرنے کا کاروبار کرتا ہوں۔ عموماً میں لوگوں کے لیے مطلوبہ سامان خرید کر دیتا ہوں ۔ سامان کی اصل قیمت پر تقریباً 40 فیصد منافع رکھ کر کل رقم ماہانہ اقساط میں وصول کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا پورا کاروبار شریعت کے مطابق ہو۔
برائےکرم درج ذیل تمام صورتوں کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں،نیز غیر شرعی ہونے پر شرعی متبادل بھی ذکر کریں :
سامان کی خرید و فروخت اورکسی شخص کی طرف سے رقم ادا کرنا/قرض دینا میں شرعی فرق کیا ہے؟ کن معاملات میں رقم دے کر اضافی رقم وصول کرنا سود شمار ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیع )خرید وفروخت )بنیادی طور پر عقدِ معاوضہ کہلاتا ہے، جس میں فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم سے مبیع (Subject Matter) کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ یہ ایک تجارتی سرگرمی ہے جس سے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اس لیے فریقین باہمی رضامندی سے نفع کی کوئی بھی شرح متعین کرسکتے ہیں ، جبکہ قرض کوئی تجارتی سرگرمی نہیں،بلکہ ایک احسان و تعاون کا معاملہ ہوتاہے، جس کا بنیادی مقصد کسی ضرورت مند کی مدد اور اس سے ہمدردی کرنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شرعی طور پر قرض خواہ کو صرف وہی اصل رقم واپس لینے کا حق ہوتا ہے جو اس نے دی تھی، اگر قرض کے بدلے میں اصل رقم پر کسی بھی اضافے یا فائدے کی شرط لگائی جائے تو وہ شرعاً سود ہوگا، جوکہ حرام ہے، اگر چہ وہ اقساط کی صورت میں وصول کیا جائے۔
قرض کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں : کسی کا بِل، فیس، کرایہ یا مزدوری نقد ادا کر کے اس پر مشروط اضافہ وصول کرنا یا طے شدہ قیمت پر تاخیر کی وجہ سے اضافہ لینا وغیرہ۔
حوالہ جات
شرح مختصر الكرخي (3/ 6):
والأصل في جواز البيع قوله تعالى: {وأحل الله البيع وحرم الربا} [البقرة: 275].
وقال تعالى: {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29].
المبسوط للسرخسي (11/ 41):
فإن الديون تقضى بأمثالها.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (5/ 166):
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


