| 92474 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
اگر کوئی شخص یہ کہےکہ میں نے Easypaisa کی دکان کھولی ہے، آپ میرے Easypaisa اکاؤنٹ میں 100,000 روپے ڈال دیں، میں آپ کو ہر ماہ اقساط میں 40 فیصد کے ساتھ اضافی رقم واپس کروں گا۔
.1 اب اگر میں اسے 100,000 روپے دوں اور وہ مجھے 140,000 روپے واپس کرے تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
.2 اگر یہ جائز نہیں تو کیا اس کوشرکت یا مضاربت کی شرعی صورت میں کیا جا سکتا ہے؟ اس کا درست طریقہ کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1 جائز نہیں ۔
.2 مضاربت کے اصول پر معاملہ کیا جاسکتا ہے جس کادرست طریقہ یہ ہے کہ آپ Easypaisa Account Holder کو مضاربت کی بنیاد پر پیسے ٹرانسفر کریں کہ ان پیسوں سے ایزی پیسہ کی سہولت فراہم کرنے کا کام کریں اور کسٹمر سے وصول شدہ نفع طے کردہ مدت کے بعد فیصدی اعتبار سے تقسیم کریں گے،مثلا کسٹمر کو رقم بھیجنے کی سہولت پر وصول کی جانے والی اجرت کو باہمی رضامندی سے ماہانہ یا سالانہ فیصدی حساب سے مثلا 70%/40% کی بنیاد پر تقسیم کریں گے ۔
دوسری جائز صورت شراکت داری کی ہے کہ اگر آپ کے پیسوں کے ساتھ Easypaisa Account Holder بھی اپنےپیسے ایزی پیسہ کی سہولت کےلیے استعمال کرتا ہے تو پھر شرکت اموال کی صورت بنتی ہے ، جس میں فریقین کا سرمایہ معلوم ہو ،باقی نفع کی تقسیم یہاں بھی باہمی رضامندی سے فیصدی حساب سے طے کی جاسکتی ہے ۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص271):
المادة (1404) المضاربة نوع شركة على أن يكون رأس المال من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر ، ويدعى صاحب المال رب المال والعامل مضاربا.
المادة (1405) ركن المضاربة الإيجاب والقبول ، مثلا إذا قال رب المال للمضارب: خذ رأس المال هذا مضاربة واسع واعمل على أن يقسم ربحه بيننا مناصفة أو ثلثين وثلثا. أو قال قولا يفيد معنى المضاربة كقوله: خذ هذه النقود واجعلها رأس مال والربح مشترك بيننا على نسبة كذا ، وقبل المضارب ، تنعقد المضاربة.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 345):
المادة (1332) - (تكون الشركة سواء كانت مفاوضة أو عنانا إما شركة أموال وإما شركة أعمال وإما شركة وجوه، فإذا وضع كل واحد من الشركاء مقدارا من المال ليكون رأس مال للشركة وعقدوا الشركة على أن يبيعوا ويشتروا معا أو كل واحد على حدة أو مطلقا وعلى أن يقسم ما يحصل من الربح بينهم تكون الشركة شركة أموال.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


