03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسط دیر سے ادا کرنے پر مالی جرمانہ وصول کرنے کا حکم
92481حدود و تعزیرات کا بیانتعزیر مالی کے احکام

سوال

 اگر کسٹمر قسط دیر سے ادا کرے تو کیا اضافی رقم/جرمانہ وصول کیا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مقررہ وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں کسٹمر سے  مالی جرمانہ وصول کرنا جائز نہیں، البتہ بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے باہمی رضامندی سے  کوئی چیز بطورِ سیکیورٹی رکھی جا سکتی ہے، مثلاً دستخط شدہ بینک چیک، ڈرافٹ ، گاڑی یا گھر کے دستاویزات وغیرہ، نیز کسٹمر سے کسی ایسے تیسرے شخص (Guarantor) کی ضمانت بھی لی جا سکتی ہے جو مالی اعتبار سے مستحکم ہو۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 44):

وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب