03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کا حکم
91521طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی 2022ء میں ہوئی، شروع کے تین ماہ سسرال میں رہی، اس کے بعد کپڑوں کے ایک سوٹ پر جھگڑے کی بنیاد پرشوہر اور نند نے مجھے گھر سے نکال دیا، اس کے بعد میرے تمام اخراجات میرے والدین نے برداشت کیے، میری بچی کی پیدائش ہوئی، اس پر بھی انہوں نے خرچ نہیں دیا، ہم نے طلاق کی کوشش کی، مگر شوہر نے طلاق دینے سے انکار کیا، بلکہ ساس نے کہا کہ ہم اسے لٹکا کر رکھیں گے اور لڑکے کی دوسری شادی کردیں گے، بالآخر ہم نے عدالت سے رابطہ کیا اور نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دعوی دائر کیا، عدالت نے بطورِ ثبوت گواہ مانگے، ہم نے عدالت کی طرف سے بھیجے گئے پیپرز پر دوگواہوں اپنے ماموں اور کزن کے دستخظ کرواکر عدالت میں جمع کروائے، عدالت کی طرف سے شوہر کو تین نوٹس بھیجے گئے، مگر شوہر عدالت میں حاضر نہ ہوا اور عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کر دی، کیا یہ ڈگری شرعا معتبر ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر آپ نے شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے کے دعوی کے ثبوت کے لیے عدالت کی طرف سے بھیجے کاغذات پر مذکورہ دو گواہوں کے دستخط کروا کر عدالت میں جمع کروا دیے تھے تو اس صورت میں شوہر کی عدم موجودگی میں عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا فیصلہ شرعاً نافذ اور معتبر ہے اور فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے آپ کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت ختم ہونے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہیں۔یہ بات یاد رہے کہ عدالتی فیصلہ میں ذکر کیے گئےخلع کے الفاظ کو تنسیخ نکاح پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ خلع کے لیے زوجین کی باہمی رضامندی کا ہونا ضروری ہے۔

حوالہ جات

....

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

17/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب