03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیڑھ ماہ کے حمل کر ساقط کرنے کا حکم
91691جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں، طلاق کے بعد مجھے پتا چلا کہ میں امید سے ہوں، لیکن میرے شوہر جن کی یہ اولاد ہے وہ اس کو نہیں مان رہے، وہ کہتا ہے یہ میرا حمل نہیں ہے، میرے والدین کا انتقال ہو چکا ہے، پہلے سے میری دو بچیاں ہیں، میں اکیلی بچوں کو نہیں پال سکتی، اس حمل کو ابھی دوسرا مہینہ شروع ہے، کیا میں اس حمل کو ساقط کروا سکتی ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر ابھی حمل کو چھپن دن یعنی آٹھ ہفتے مکمل نہیں ہوئے تو مجبوری کے پیشِ نظر اس حمل کو ساقط کروانے کی گنجائش ہے، کیونکہ ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق عام طور پر چھپن دن مکمل ہونے سے پہلے بچے کے اعضاء نہیں بنتے، بلکہ جنین کی صورت گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ہوتی ہے اور بچے کے اعضاء بننے سے پہلے کسی معمولی عذر کی وجہ سے بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ نے حمل کے ساقط کرنے کی اجازت دی ہے۔

باقی پہلی دو بچیوں کی پرورش، کھانے، پینے، تعلیم اور علاج وغیرہ کا مکمل خرچ والد کے ذمہ لازم ہے، جو طلاق کے بعد فریقین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں واجب رہتا ہے، یہ اولاد کا حق ہے، جس کو ادا کرنا آپ کے شوہر کے ذمہ لازم ہے، ورنہ وہ شریعت کی نظر میں گناہ گار شمار ہو گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 176) الناشر: دار الفكر-بيروت:

قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها، وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

قال ابن عابدين: مطلب في حكم إسقاط الحمل:

(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا

أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ.

الفتاوى الهندية (5/ 356) الناشر: دار الفكر،بيروت:

العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز وإن كان غير مستبين الخلق يجوز وأما في زماننا يجوز على كل حال وعليه الفتوى كذا في جواهر الأخلاطي.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب