03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسم میں شک ہونے کی صورت میں کفارے کا حکم
92409قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میں نے اپنے منگیتر، جس سے ابھی تک میرا نکاح نہیں ہوا، سے کئی بار کہا تھا کہ پانچ مہینے بعد آپ سے شادی کروں گا، اگر نہیں کی تو پھر کبھی نہیں کروں گا، بلکہ ساری زندگی اپنے والدین کے گھر گزاروں گا۔ یہی بات میں نے اپنے والدین سے بھی کہی تھی کہ میری شادی کروا دیں۔ اب میرے والدین اس پر راضی ہو گئے ہیں۔

مجھے اب شک ہے کہ میں نے اپنے منگیتر سے یہ بات کہتے ہوئے قسم بھی کھائی تھی کہ پانچ مہینے بعد تم سے شادی کروں گا، ورنہ پھر کبھی نہیں کروں گا۔

اب کسی وجہ سے یہ شادی پانچ مہینے بعد نہیں ہو سکتی، تو کیا میں ایک یا دو سال بعد اسی لڑکی سے شادی کر سکتا ہوں، جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ پانچ مہینے بعد کروں گا، ورنہ پھر کبھی نہیں کروں گا؟

(1) کیا مجھ پر قسم کا کفارہ لازم آتا ہے یا نہیں؟

(2) اگر کفارہ لازم آتا ہے تو کب ادا کرنا ہوگا؟ پانچ مہینے بعد یا پانچ مہینے پورے ہونے سے پہلے؟

(3) کیا کفارہ ادا نہ کرنے سے نکاح پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ یعنی نکاح تو صحیح ہو جائے گا، لیکن کفارہ ادا نہ کرنے کا گناہ ہوگا؟

(4) میری کوئی جاب نہیں ہے، ابھی میں طالب علم ہوں۔ میرے والد بھی مالی تنگی کا شکار ہیں، تو کیا میں تین روزے رکھ کر کفارہ ادا کر سکتا ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب کسی شخص کو اس بات میں شک پیدا ہو جائے کہ اس نے قسم کھائی تھی یا نہیں، تو ایسی صورت میں قسم منعقد ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ پر کسی قسم کا کفارہ لازم نہیں ہے، اور آپ جب چاہیں، اسی لڑکی سے نکاح کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

«غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر» (1/ 211):

«شك هل حلف بالله، أو بالطلاق، أو بالعتاق فينبغي أن يكون حلفه باطلا 54 -، ثم رأيت المسألة في البزازية في شك الأيمان: حلف ونسي أنه بالله تعالى، أو بالطلاق، أو بالعتاق 55 - فحلفه باطل (انتهى) ...قيل: أما الطلاق والعتاق فإنهما لا يقعان بالشك وأما الحلف بالله؛ فلأن الأصل براءة الذمة فلا تجب الكفارة بالشك (انتهى)»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (2/ 64):

«رجل حلف أن لا يفعل كذا فنسي أنه كيف حلف بالله أو بالطلاق أو بالصوم قالوا: لا شيء عليه أن يتذكر كذا في فتاوى قاضي خان.»

  عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

  21  /ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب