03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے پہلے ایلاء کا شرعی حکم
92363طلاق کے احکامبیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل

سوال

میں نے بہت عرصہ پہلے، نکاح ہونے سے پہلے، جس لڑکی سے میری صرف منگنی ہوئی تھی، لیکن نکاح نہیں ہوا تھا، اسے میں نے کسی کام سے سختی سے منع کیا تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ میں نے اسے منع کیا تھا، وہ اب مجھے صحیح طرح یاد نہیں ہیں، لیکن بہت سوچنے اور غور کرنے کے بعد، اپنے غالب گمان کی بنیاد پر، میرے ذہن میں کچھ الفاظ آئے ہیں۔ شاید میں نے اس سے کہا تھا:اگر آئندہ، فیوچر میں، پھر کبھی یہ کام کیا تو تم سے میں طلاق ختم کر دوں گا۔"

یہاں لفظ "فیوچر" سے میری مراد شادی کے بعد تھی یا شادی سے پہلے، یہ مجھے یاد نہیں، لیکن اتنا یاد ہے کہ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد، کسی بھی وقت کے لیے یہ بات کہی تھی۔ اسی طرح طلاق ختم کرنے سے میری نیت کیا تھی، یہ بھی یاد نہیں، لیکن غالب گمان سے یہ یاد آتا ہے کہ شاید میری مراد ازدواجی تعلق ختم کرنا تھی۔ساتھ ہی مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے اس بات پر قسم کھائی تھی یا نہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھائے اور کہے کہ میں ازدواجی تعلق، یعنی ہم بستری، نہیں کروں گا، تو اس پر ایلاء کا حکم لاگو ہوتا ہے۔

 اب میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس نے شادی سے پہلے یہ کام کر لیا تو یہ شرط پوری ہو جائے گی یا نہیں؟ اور شادی کے بعد اس کام کو کرنے سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں، اس قسم کی وجہ سے اور اس "طلاق ختم کرنے" کے جملے کی وجہ سے؟ نیز قسم کا کفارہ کس پر لازم ہوگا، میاں بیوی دونوں پر یا صرف شوہر، یعنی مجھ پر؟

اس شرط کی وجہ سے معلق طلاق کا حکم تو لاگو نہیں ہوتا ہے؟

اسی طرح اگر بیوی نے قسم اٹھا لی اور کہا: "اگر تم نے یہ کام کیا تو میں شادی کے بعد ہم بستری نہیں کروں گی۔" پھر وہ کام شادی سے پہلے شوہر کر لے، تو کیا بیوی کی قسم ٹوٹ جائے گی؟ اور شادی کے بعد شوہر نے وہ کام کر لیا تو کیا ایلاء کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا؟

میں واضح کروں کہ مجھے نہ یہ یاد ہے کہ میں نے قسم کھائی تھی یا نہیں، اور نہ یہ یاد ہے کہ "طلاق ختم کرنے" سے میری نیت نکاح ختم کرنے کی تھی یا پیار و محبت کو ختم کرنا تھا۔ یہ دونوں چیزیں مجھے یاد نہیں۔

اسی طرح بیوی کو بھی یہ یاد نہیں کہ اس نے قسم کھائی تھی یا نہیں، یا صرف یہ کہا تھا کہ "اگر تم نے یہ کام کیا تو میں ہم بستری نہیں کروں گی۔" اور مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ جب بیوی نے یہ کہا تھا کہ "ہم بستری نہیں کروں گی" تو میں نے بیوی کی اس قسم یا شرط کو قبول کیا تھا یا نہیں۔

آخری سوال: میں نے اس طرح بہت سے الفاظ کہے ہیں اور مختلف باتوں پر قسمیں کھائی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مسائل پر الفاظ کہے ہیں، اور نہ مجھے الفاظ یاد ہیں، نہ یہ یاد ہے کہ کس چیز پر قسمیں کھائی تھیں یا کس نیت سے منہ سے الفاظ نکالے تھے۔ اب اگر کہیں نکاح کے بعد وہ کام ہو گئے ہوں جن پر میں نے قسمیں یا کوئی اور بات کہی ہو، تو کیا نکاح پر اثر پڑے گا؟ مجھے کچھ بھی یاد نہیں کہ کون سی بات کہی تھی، کس چیز پر قسم کھائی تھی، کیا ہوا تھا؛ کچھ یاد نہیں، لیکن خیالات آتے ہیں کہ شاید یہ کہا ہو، شاید وہ نہ کہا ہو۔میں اتنے وسوسوں سے تنگ آ گیا ہوں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی جان لے لوں۔

نوٹ: میں حنفی فقہ پر عمل کرنے والا، آپ سے شرعی مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھے جلد از جلد جواب عنایت فرما دیجیے۔ بہت مسئلے بن رہے ہیں اور ذہنی پریشانی بھی بہت ہو رہی ہے۔ میرے ان سوالات کو کسی بھی پلیٹ فارم یا سوشل میڈیا ایپ پر پوسٹ یا ظاہر نہ کیجیے، یہ میری گزارش ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں ایلاء اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے مطلقاً، یا ہمیشہ کے لیے یا چار ماہ اور اس سے زیادہ مدت کے لیے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھا لے ، یا بیوی سے مباشرت کرنے کی صورت میں اپنے اوپر ایسی چیز لازم کر لے جس کی ادائیگی میں اسے مشقت ہو، مثلاً یہ کہے: ’’اگر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی تو مجھ پر حج یا اتنے روزے لازم ہوں گے۔‘‘

اب اگر اس نے چار ماہ کے اندر اندر بیوی کے ساتھ صحبت کر لی تو اس پر کفارہ لازم ہوگا، یا اگر اس نے قسم کھاتے وقت اپنے اوپر حج یا کوئی اور مشقت والا کام لازم کیا تھا تو اسے پورا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر اس نے چار ماہ کے اندر اندر بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کی تو اس صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔

نیز کسی شخص کے لیے کسی عورت سے ایلاء کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورت اس کے نکاح میں ہو۔ صورتِ مسئولہ میں جب صرف منگنی ہوئی تھی اور نکاح نہیں ہوا تھا، تو ایلاء منعقد ہی نہیں ہوا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نہ کوئی طلاق واقع ہوگی اور نہ ہی مستقبل میں کسی قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔تاہم آئندہ کے لئے  اس طرح کی قسموں سے پرہیز کرے۔

حوالہ جات

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 205):

«(ولو قال لأجنبية والله لا أقربك أو أنت علي كظهر أمي ثم تزوجها لم يكن موليا ولا مظاهرا) لأن الكلام في مخرجه وقع باطلا لانعدام المحلية فلا ينقلب صحيحا بعد ذلك (وإن قربها كفر) لتحقق الحنث إذ اليمين منعقدة في حقه»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 161):

«وأما ركنه فهو اللفظ الدال على منع النفس عن الجماع في الفرج مؤكدا باليمين بالله تعالى أو بصفاته أو باليمين بالشرط والجزاء حتى لو امتنع من جماعها أو هجرها سنة أو أكثر من ذلك لم يكن موليا ما لم يأت بلفظ يدل عليه؛ لأن الإيلاء يمين لما ذكرنا واليمين تصرف قولي، فلا بد من القول، ولو أتى بلفظ يدل على نفي الجماع فيما دون الفرج لم يكن ذلك إيلاء في حق حكم البر؛ لأن حكم البر إنما يثبت لصيرورته ظالما بترك الجماع في الفرج؛ لأن حقها فيه.»

عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

  24  /ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب