| 91672 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ایک دکاندار ہے، جس کی دکان میں اس کا اپنا 10 لاکھ روپے کا سامان/سرمایہ موجود ہے، اب اگر تین چار دیگر افراد اس دکاندار سے معاہدہ کرنا چاہیں کہ وہ اپنی رقم دکان میں لگاتے ہیں، تاکہ وہ ماہانہ نفع اور نقصان (تاوان) دونوں میں شریک ہو سکیں تو اس کا شرعی و اسلامی طریقہ کار کیا ہوگا؟ نیز اسلامی احکام کی روشنی میں منافع اور نقصان کی تقسیم کا کیا طریقہ اپنایا جائے گا؟ اور اس شراکت داری کے معاہدے کو اسلامی فقہ میں کیا کہا جاتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چلتے ہوئے کاروبار میں شریک ہونے کو شریعت کی نظر میں عقد شرکت کہا جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں جو افراد مذکورہ دکاندار کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوناچاہتے ہیں، وہ درج ذیل شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شریک ہو سکتے ہیں:
-
ہرشریک کے سرمایہ کی مقدار فیصد کے اعتبار سے معلوم ہو، یعنی کاروبار میں موجود کل سرمایہ کا مثلا چالیس فیصد سرمایہ فلاں شریک کا ہے اور سرمایہ کرنسی کی شکل میں ہونا چاہیے۔
-
کسی بھی شريك کے لیے متعین رقم میں نفع طے کرنا یا نفع کی شرح کو مجہول(مثلاً یہ کہا کہ کچھ نفع آپ کا ہو گا) جائز نہیں، اس سے شركت فاسد ہو جائے گی، لہذا ہرشریک کا نفع فیصد (Percentage) کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے۔
-
نقصان وغیرہ کی صورت میں کسی بھی شریک کاکاروبار میں لگے ہوئے سرمایہ کی ضمانت دینا درست نہیں ، اگر عقد میں یہ شرط لگا دی گئی تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہو گا، بلکہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہو گا۔
-
جس شریک کا عقد کے وقت کاروبار میں کام نہ کرنا(Sleeping Partner) طے ہو اس کے نفع کی شرح اس کے کاروبار میں لگائے گئے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہیں مقررکیا جا سکتی۔
-
اگر کسی وجہ سے شرکت شرعاً فاسد ہو جائے تو ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے نفع کا حق دار ہو گا اور شرکت کے معاہدہ کے وقت طے کی گئی نفع کی شرح کا اعتبار نہیں ہو گا اور ایسی صورت میں کام کرنے والے شریک کو اس کے عمل کی اجرتِ مثل (اس طرح کا کاروبار کرنے پر معاشرے میں جو اجرت دی جاتی ہو) ملے گی۔
-
نفع کی حقیقی تقسیم اسی وقت ہو گی جب تنضیضِ حقیقی (Actual Liquidation) یعنی کاروبار میں موجود تمام اثاثہ جات کوبیچ کر کرنسی (Cash)میں تبدیل کیاجائےیا تنضیضِ حکمی (Constructive Liquidation) یعنی باہمی رضامندی سے تمام اثاثہ جات کی قیمت لگوا لی جائے اورلوگوں سے وصول ہونے والے قرضوں کی رقم بھی اس میں شامل کر لی جائے،اس کے بعد کاروباری اخراجات،واجب الادء قرضے اورکاروبار میں لگایا گیا سرمایہ نکالا جائے گا اور اب تک شركاء بطورِنفع جو رقم لے چکے ہوں اس کو بھی سرمایہ میں شامل کیا جائے، کیونکہ وہ نفع تحت الحساب تھا، اس کے بعد کاروبار کے ذمہ تمام واجب الاداء قرضے (Liabilities)ادا کرنے کے بعد جو رقم باقی بچے وہ نفع شمار ہو گا جس کو عقد میں طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 255) نورمحمد كتب خانه، كراتشي:
المادة (1333) يتضمن كل قسم من شركة العقد الوكالة , وذلك أن كل واحد من الشركاء وكيل للآخر في تصرفه يعني في البيع والشراء وفي تقبل العمل من الغير بالأجرة فلذلك كما أن العقل والتمييز شرط في الوكالة فيشترط على العموم في الشركة أن يكون الشركاء عاقلين ومميزين أيضا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 59) الناشر: دار الكتب العلمية:
(ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.
(وأما) الذي يخص البعض دون البعض: فيختلف.
(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 263) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر.
الفتاوى الهندية (2/ 320) دار الفكر، بيروت:
(الفصل الثاني في شرط الربح والوضيعة وهلاك المال) لو كان المال منهما في شركة العنان والعمل على أحدهما إن شرطا الربح على قدر رءوس أموالهما جاز ويكون ربحه له ووضيعته عليه وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله لم يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة ولكل واحد منهما ربح ماله، كذا في السراجية. ولو شرطا العمل عليهما جميعا صحت الشركة، وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/صفرالخیر 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


