03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا شرعی حکم
92451طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

گزارش ہے کہ مجھے ایک شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔  کورٹ (عدالت) سے لی گئی خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر بیوی غیر معتبر وجوہات کی بنا پر خلع لے، جبکہ شوہر اپنی تمام ذمہ داریاں مثلاً نان و نفقہ، ہسپتال کے اخراجات اور اولاد کے تمام اخراجات ادا کر رہا ہو، تو ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ میری بیوی مجھ سے خلع اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ میرا اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دو چھوٹے بچے ہیں؛ ایک بیٹا ڈھائی سال کا اور ایک بیٹی دو ماہ کی ہے۔ بیٹی کو پیدائشی طور پر دل کا عارضہ ہے، جس کی دیکھ بھال وہ نہیں کر سکے گی۔میری بیوی نے خلع کی جو وجوہات بیان کی ہیں وہ معتبر نہیں  ہیں، مثلاً: کھانے پینے سے متعلق ترجیحات پر اعتراض کرنا کہ فلاں کم کماتا ہے، تم فلاں کاروبار کرو اور یہ کاروبار مت کرو، ​کام سے دیر سے آنے پر اعتراض کرنا۔ برائے کرم اس مسئلے میں قرآن و سنت کی روشنی میں مستند حوالہ جات کے ساتھ رہنمائی فرما کر ممنون ہوں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی خلع دو طرفہ عقدِ معاوضہ ہے، جس کی صحت اور نفاذ کے لیے میاں اور بیوی دونوں کی باہمی رضامندی و ایجاب و قبول شرط ہے۔اگر آپ اپنے تمام شرعی و مالی واجبات (نان و نفقہ، رہائش، علاج معالجہ اور بچوں کی پرورش) احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں  اور بیوی کو  خلع یا طلاق دینے پر راضی نہیں ہیں ، تو کسی بھی فیملی کورٹ (عدالت) کا یک طرفہ خلع کا فیصلہ جاری کرنا شرعاً باطل اور  کالعدم ہوگا ۔ ایسے یک طرفہ عدالتی خلع سے شرعی نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ نکاح اپنی جگہ بدستور قائم  رہتا ہے۔

شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ فسخ نکاح کا اختیار جج /عدالت کو  صرف ایسی مجبوری کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ،جب فسخ نکاح    کا کوئی معتبر سبب موجود ہو ،جیسے:شوہر نا مرد ہو، نان نفقہ نہ دیتا ہو،مفقود ہو یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کا کوئی حال احوال معلوم نہ ہو،  ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔اگر ان معتبر شرعی اعذار میں سے کوئی عذر موجود ہو اور بیوی  عدالت کے سامنے شرعی شہادت (گواہوں)  کے ذریعے  ثابت  بھی کر دے، تو جج  / عدالت کا کیا ہوا فسخِ نکاح شرعاً معتبر اور نافذ ہوگا۔آپ کی بیوی کی طرف سے بیان کردہ اعذار میں سے کوئی ایسا معتبر عذر نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ عدالت سے رجوع کرکے فسخ نکاح کروائے ۔  ( یاد رہے کہ اگر شریعت کی طرف سے بیان کردہ معتبر اعذار میں سے کوئی عذر موجود بھی ہو ، پھر بھی  اسے گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا ایک مستقل حکم ہے ۔گواہی کے بغیر صرف عورت کا مدعا سن کر ہی فسخ نکاح کا فیصلہ کردینا ، جیسا کہ آج کل عدالتوں میں ہو رہا ہے ، اس سے فسخ نکاح نہیں ہوتا ،بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم رہتا ہے  )۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع :(3/145)

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

«المبسوط» للسرخسي (6/ 173):

«(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد.»

الدرالمختار مع ردالمحتار: (3/441)

(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی

25/ربیع الثانی/1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب