03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبار کے لیے قرض دے کر نفع لینے کا شرعی حکم
92495مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

مفتی صاحب میرا دکان بنانے کا ارادہ ہے۔ اس مقصد کے لیے میں ایک آدمی سے چھ لاکھ روپے قرض لیتا ہوں، اس شرط پر کہ میں ماہانہ جتنا نفع کماؤں گا، اس کا دس فیصد اسے دوں گا۔ وہ یہ قرض مجھے تین سال کے لیے دیتا ہے، اور تین سال بعد میں اسے اصل چھ لاکھ روپے واپس کروں گا۔ لیکن اگر کسی  سیلاب وغیرہ سے یہ دکان ہلاک ہوگیا تو وہ پھر وہ چھ لاکھ  روپے واپس نہیں لے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاہدہ کرنا شرعاً درست ہے؟ کیا اس صورت میں قرض دینے والے کو نفع کی رقم دینا سود کے حکم میں ہوگا؟

تنقیح : سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے کرائے پر ایک دکان لی ہے اور اس میں سودا (سامان) ڈالنے کے لیے ایک شخص اسے چھ لاکھ روپے بطورسرمایہ کاری دے رہا ہے۔ اس سودے کی فروخت سے جو منافع حاصل ہوگا، اس میں سے ماہانہ دس فیصد سرمایہ کار کو دیا جائے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ صورت سودی قرض کی ہے، سودی قرضہ لینا اور دینا حرام ہے۔ تاہم آپ کا یہ معاملہ درست ہوسکتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ مضاربت کا معاملہ کریں یعنی رقم دینے والے کے ساتھ یہ طے کریں کہ آپ کی رقم کاروبار میں لگالوں گا، پھر اس سے جتنا بھی نفع ہوگا اس میں سے اتنے فیصد مثلا 20 فیصد رقم دینے والے کا اور 80 فیصد آپ کا ہوگا۔ اگر نقصان ہوا تو اگر وہ نقصان نفع سے پورا ہوسکتا ہے تو اس کو نفع سے پورا کریں گے اور اگر کاروبار میں اس قدر نقصان ہوا کہ اصل انویسٹمنٹ ڈوب گئی یا کم رہ گئی تو یہ نقصان صرف انویسٹمنٹ کرنے والے کا ہوگا۔ اس صورت میں پیسے لگانے والے کا پیسہ ضائع ہوگا اور آپ کی محنت ضائع ہو جائےگی۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200):

ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه قبضه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه، وإذا ربح فهو شريك فيه لتملكه جزءا من المال بعمله، فإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 82):

 (منها) أن يكون رأس المال من الدراهم أو الدنانير عند عامة العلماء فلا تجوز المضاربة بالعروض. (ومنها) أن يكون معلوما فإن كان مجهولا لا تصح المضاربة؛ لأن جهالة رأس المال تؤدي إلى جهالة الربح، وكون الربح معلوما شرط صحة المضاربة... (ومنها)أن يكون رأس المال عينا لا دينا، فإن كان دينا فالمضاربة فاسدة... (ومنها) تسليم رأس المال إلى المضارب؛ لأنه أمانة فلا يصح إلا بالتسليم، وهو التخلية كالوديعة، ولا يصح مع بقاء يد الدافع على المال؛ لعدم التسليم مع بقاء يده.... (منها) إعلام مقدار الربح؛ لأن المعقود عليه هو الربح، وجهالة المعقود عليه توجب فساد العقد... (ومنها) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا، فإن شرطا عددا مقدرا بأن شرطا أن يكون لأحدهما مائة درهم من الربح أو أقل أو أكثر والباقي للآخر لا يجوز.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

24/ربیع الآخر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب