03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جبری کٹوتی  کی بناء پر جی پی فنڈ پر ملنے والی اضافی رقم  کا حکم
91908اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

میں عمران شوکت سندھ ٹکنیکل ایجو کیشن اتھارٹی (STEVTA ) میں ملازم ہوں، ادارے کے رائج الوقت قوانین کے مطابق میری تنخواہ سے جی پی فنڈ (General Provident Fund) کی لازمی کٹوتی (Compulsory Deduction) کی جاتی ہے، جس میں میری مرضی اور اختیار  کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، کٹوتی کی شرح اور اس پر حکومت کے مقررہ سالانہ ریٹ کے مطابق ملنے والا اضافی منافع مختلف رہا ہے، اس صورت حال میں آپ سے درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی درکار ہے:

1۔اضافی رقم کا شرعی حکم: چونکہ اسٹیوٹا (STEVTA) میں یہ کٹوتی لازمی ہے، تو کیا اس جمع شد ہ ر قم پر حکومت کے مقررہ سالانہ ریٹ کے حساب سے ملنےوالی اضافی رقم شرعا" سود " کے زمرے میں آئے گی یا یہ ادارے / حکومت کی طرف سے علیہ (تبرع ) شمار ہو گی ؟

2۔ اصل اور اضافی رقم کی تفریق: سیکیورٹی گار ڈسے جونیئر کلرک (11-BPS)  تک گریڈ اور کٹوتی کی رقم مختلف رہنے کی وجہ سے اصل اور اضافی رقم کا حساب معلوم نہ ہو تو شر عی نقطہ نظر سے اصل اور اضافی رقم کو الگ کرنے کا کیا طریقہ کار ہو گا؟

3۔عملی اور احتیاطی تدبیر: اگر یہ اضافی ر تم شرعا ناپسندیدہ یا سود شمارہوتی ہوتوکیامجھے اس فنڈ کو انٹرسٹ فری / نان انٹرسٹ (Non-interest) بند کروانے کے لیے ادارے ( STEVTA Accounts Section ) کو درخواست دینی چاہیے ؟ یالاز می کٹوتی ہونے کے باعث جو ر قم ملے اسے استعمال کرنا میرے لیے  جائز ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جی پی فنڈ پر ملنے  والی  اضافی رقم کا حکم  شرعی  اعتبار سے  اجرتِ مؤجلہ (ریٹائرمنٹ کے بعد دی جانے والی اجرت ) کا ہے، کیونکہ آپ کا کمپنی کے ساتھ معاملہ اجارہ کا ہے  اور کمپنی آپ کےکام عوض  تنخواہ ایک حصہ آپ کو ماہانہ  دے دیتی ہے اور دوسرا حصہ(جس میں تنخواہ سے کی گئی جبری کٹوتی اور اضافہ دونوں شامل ہیں) ریٹائرمنٹ کے بعد دیتی ہے، اضافی رقم کو شرعی اعتبار سے سود قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کمپنی جب آ پ کے تنخواہ پر قبضہ کرنے سے پہلے اس سے جبری کٹوتی کر کے مزیدرقم شامل کر تی ہے تو یہ  اضافی رقم درحقیقت   تبرع اور ہدیہ شمار ہو گا، اس کی مثال  ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو چالیس ہزار تنخواہ پر ملازم رکھے ، مہینہ ختم ہونے پر تیس ہزار اس کو ادا کر دے  اور بقیہ دس ہزار اپنے پاس روک لے اور پھر اس کے ساتھ  مزید  پانچ ہزار ملا کر اگلے ماہ  کی تنخواہ کے ساتھ ادا کر دے تو  یہ پانچ ہزار اس کی طرف سے شرعاً ہدیہ اور گفٹ سمجھا جائے گا۔

سود اس وقت کہا جاتا جب ملازم تنخواہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس کا کچھ حصہ کمپنی کو واپس کرتا اور پھر کمپنی اپنی طرف سے اس میں  اضافہ کر کے اس کو ادا کرتی  تو اس صورت میں اضافی رقم شرعاًسود شمار ہوتی ، جبکہ مذکورہ صورت میں ایسا نہیں ہے، لہذا  سوال میں ذکر کی گئی صورت  میں آپ کے لیے اصل اور اضافی رقم دونوں جائز  ہیں، لہذاشرعاً  اس رقم کو بند کروانا ضروری نہیں ہے۔

حوالہ جات

.....

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

26/ربیع الاول 1448ھنقش

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب