03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحریری تین طلاقوں کے بارے میں غلط بیانی کے ذریعے لئے گئے فتوی(84588/64) کا حکم
88658طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شبیر احمد ولد فقیر احمد نے اپنی بیوی کو ہر ماہ ایک طلاق بذریعہ نوٹس تین طلاقیں بھیجیں جس کی تحریر یہ ہے:

 مابین فریقین دوران آبادگی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے نا چاقی ہوگئی مسماةخدیجہ وارث میری نافرمان اور گستاخ ہے اور میرے ساتھ بلاوجہ لڑائی جھگڑا کرتی ہے ،میں نے اپنا گھر بسانے کی خاطر منکوحہ مذکورہ کو خود بھی سمجھانے کی کوشش کی اور معززین خاندان نے بھی کافی کوشش کی، مگر صلاح کی گنجائش نہ رہی۔

یہ بلا وجہ اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہے اور اب میرے گھر آباد ہونے سے انکاری ہے، لہذا زوجہ مذکور ہ مسماۃ خدیجہ وارث مذکورہ کو طلاق دے کراپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں، مذکورہ کو طلاق دیتا ہوں، آج کے بعد میرے نفس پر حرام ہے اور کسی قسم کا تعلق واسطہ نہ رہا ہے، مذکور یہ بعد عدت اپنا عقد ثانی کر لیوے، کوئی عذر اعتراض نہ ہو گا، طلاق نامه روبرو گواہان اپنی مرضی سے تحریر کروادیا ہے، تا کہ سند رہے اور کام آوے)

پھر شبیر احمد نے ان تینوں طلاقوں کو مؤثر بنانے کے لیے یونین کونسل میں مؤٕثر سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے درخواست دی ، درخواست کی تحریر یہ ہے (  کہ سائل کے جاری کر دہ طلاق نامہ کو قبول و منظور فرما کر مؤٕثر سرٹیفیکیٹ جاری فرمائیں، لیکن بظاہر طلاق سے بچنے کے لیے جھوٹا استفتاء لکھوا کر دار الافتاء جامعۃ الرشید سے فتویٰ حاصل کر لیا ۔

جس کا حوالہ نمبر 22883/46 اور فتوی نمبر 64 / 84588، بتاریخ 2024-08-17 جاری ہوا۔

نوٹ: تینوں نوٹس اور مؤثر سرٹیفیکیٹ کی درخواست پر شبیر احمد کے دستخط اور انگوٹھے کے نشان موجود ہیں، نیز دریافت طلب امر یہ بھی ہے کہ ایک طرف بندہ دعویٰ کر رہا ہو کہ مجھ سے زبر دستی تحریر پر دستخط کروائے گئے اور دوسری طرف رضامندی کی تحریر بھی موجود ہو تو کیا قضاء طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

ان تمام باتوں کی روشنی میں نظر ثانی فرما کر جواب ارسال فرمادیں۔ جزاكم الله خيرا واحسن الجزاء

تنقیح: سوال کی مزید وضاحت درج ذیل ہے:

لڑکی کے کسی مرد کے ساتھ تعلقات تھے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اس مرد سے شادی کر لی،رشتہ لڑکے کے گھر والوں نے بھی قبول نہیں کیا لیکن اس کے باوجود وہ اپنے سسرال ہی رہتی تھی، ایک دن لڑکی کے سسر نے لڑکی کے بہنوئی کو بلا کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ ہم آپ کے ساتھ چل نہیں سکتے، لہذا اس کو لے جاؤ،وہ لے آئے،پھر لڑکی کے خاوند کی  لڑکی کے بہنوئی کوکال آئی کہ آپ لڑکی کو اس وجہ سے واپس نہیں بھیج رہے، کیونکہ آپ اس کے ساتھ راتیں گزارتے ہو ،یعنی کہ آپ کے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ،لڑکی کے خاوند اور اس کی بہنوئی کے درمیان کافی تلخ کلامی ہوئی۔

اس کےٹھیک پندرہ دن کے بعد طلاق کے تینوں نوٹس ہمارے گھر کے پتہ پر پہنچے، چونکہ لڑکی ہمارے گھر ہی تھی،لڑکی کے بہنوئی کا بیان یہ بھی ہے کہ لڑکی نے ہمیں خود بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے فون پر کہا ہے کہ میری طرف سے تو فارغ ہے میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے ،اس واقعے کو تقریبا ایک سال کا عرصہ ہو چکا ہے ،اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ لڑکی کا دوبارہ اس سے رابطہ ہے ،وہ اس کے پاس واپس بھی جانا چاہتی ہے اور اپنے پہلے طلاق والے معاملے سے بھی مکر چکی ہے ۔

 لڑکے کا بیان یہ ہے کہ یہ تحریر میرے سامنے ہی لکھی گئی تھی ،لیکن اس پر دستخط مجھ سے زبردستی کروائے گئے،اب ان تمام باتوں کو مد نطر رکھتے ہوئے جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مفتی کا کام پوچھی گئی صورت حال کے مطابق مسئلہ بتانا ہوتا ہے،سچ اور حقیقت بیان کرنا سائل کی ذمہ داری ہے،لہذا اگر سائل غلط بیانی سے کام لے گا تو اس کاوبال اسی کے سر ہوگا اور محض مفتی کے بتانے سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوگی ،اسی لئے احتیاط کے پیشِ نظر دارالافتاء جامعة الرشید کے فتوی کے لئے منتخب فارمیٹ پر یہ عبارت لکھی گئی ہے کہ :

"دارالافتاء جامعة الرشید سے جاری ہونے والا ہر فتوی درج کئے گئے سوال کے مطابق دیا جاتا ہے،اگر صورت حال پوچھے گئے سوال کے برعکس ہو تو فتوی کالعدم سمجھا جائے گا"۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا اصولی جواب درج ذیل ہے:

طلاق کے معاملے میں عورت قاضی کی طرح ہے،اس لیے جب وہ خود اپنے کانوں سے شوہر کو طلاق دیتے سنے یا کوئی ایسا نیک آدمی اسے طلاق کی خبر دے جس کی بات پر اسے اعتماد ہو تو اس کے بعد عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں رہتا۔

لہذا مذکورہ صورت میں جب شوہر کی جانب سے لڑکی کو تین  طلاقوں کے کاغذات موصول ہوگئے اور خاوند کی جانب سے اس کی تصدیق کے لئے اسے کال بھی آگئی کہ اس نے اسے طلاق دے دی ہے،جس کا اس نے بہنوئی کے گھر میں موجود لوگوں کے سامنے اعتراف بھی کیا اور اس کے بعد شوہرنے قانونی طور پر ان طلاقوں کی تنفیذ کے لئے یونین کونسل میں سرٹیفیکیٹ کے لئے درخواست بھی دائر کی،جس پر گواہان بھی موجود ہیں ،یہ سارے ایسے قرائن ہیں جن سے شوہر کے جبر واکراہ کا دعوی خلاف ظاہر ثابت ہوتا ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اب موجودہ حالت میں ان دونوں کا دوبارہ نکاح ممکن نہیں ہے ۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 251):

" والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله".

"البحر الرائق " (3/257):   

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد؛ لأنه خلاف لا اختلاف".

"الدر المختار " (3/ 409):

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذكما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

15/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب