03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
” CITY WALK” پلازہ اسلام آباد میں دکان کی خریدوفروخت کے معاہدہ کا حکم
91910خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مفتیان کرام سے درج ذیل معاہدے کا شرعی حکم مطلوب ہے  کہ کیا یہ معاہدہ  درست ہے؟

یہ معاہدہ فروختگی مورخہ 2026 JUL 08کو اسلام آباد میں سید محمد رضا نقوی  (CNIC #37405-6603000-5)   (جسے آئندہ فریقِ اول کہا جائے گا اوریہ اصطلاح جب تک سیاق و سباق کے منافی نہ ہو، فریق اول کے متعلقہ ورثاء، قانونی نمائندگان ووصیّان، منتظمین اور ان کے قائم مقام منتقل الیہ افراد کو بھی شامل  ہوگی)  اورمسز حرا نور ( 2-9127935-37405CNIC#) اورمسٹر شیرشاہ(CNIC# 37405-9127935-2) (جنہیں آئندہ فریق دوم (Party of the 2nd Part) کہا جائے گا اور یہ اصطلاح جب تک سیاق و سباق کے منافی نہ ہو، ان کے متعلق ورثاء، قانونی نمائندگان، و صیّان، منتظمین اور ان کے قائم مقام منتقل الیہ افراد کو بھی شامل ہو گی۔) کے درمیان طے پایا ۔

چونکہ فريقِ اول پلاٹ نمبر 49 تا 54 رقبہ 600 مربع گر واقع Executive Block Faisal Hills. Taxila Rawalpindi کا قانونی مالک اور قابض ہے۔ فریق اول" CITY WALK" کے نام سے ایک کمرشل عمارت تعمیر کر رہا ہے، جو مجاز اتھارٹی یعنی TMA Taxila سے باقاعدہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق تعمیر کی جارہی ہے۔ فریق اول کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ SHOPS کو کسی بھی تیسرے فریق کے نام فروخت  اورمنتقل (transfer) کر سکتا ہے۔

اور چونکہ فریق اول نے منصوبے کے یونٹس کی بکنگ مکمل قیمت فروخت اقساط  کی صورت میں شروع کر دی ہے، جو ادائیگی کے شیڈول / اقساط کے ساتھ منسلک شرائط و ضوابط کے مطابق ہوگی۔

اور چونکہ فریق دوم کی نیت SHOP نمبر (CWG-16 Ground Floor جس کا خالص رقبہ 220 مربع فٹ (Net Area) ہے اور جو منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں باقاعدہ نشان زد ہ ہے، کو اقساط پر خریدنے کی ہے۔ فریق دوم نے لے آؤٹ پلان کا مکمل جائزہ لیا،  منصوبے یعنی" CITY WALK" کی جگہ کا دورہ کیا اور فریق اول سے مذکورہ بالا یونٹ کو قسط وار ادائیگی کے منصوبے کے مطابق خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس امر پر گواہوں کی موجودگی میں دونوں فریق درج ذیل شرائط و ضوابط پر متفق ہوئے ہیں:

1۔ مذکورہ دکان کی کل قیمت فروخت 13,600,000 RS ( تیره ملین چھ لاکھ فقط) ہوگی۔ فریق دوم نے RS 2,100,000 روپے دو ملین ایک لاکھ فقط  رقم ادا کر دی ہے۔

2 ۔قیمت فروحت کی باقی ماندہ رقم 11,500,000 .Rs ( گیارہ ملین پانچ لاکھ فقط) فريق دوم کی جانب سے فریق اول کوباقی ماندہ  اقساط 45ماہ میں ادا کی جائیں  گی، جن میں سے ہر قسط 110,222 روپےہوگی، 1,000,000 RS کی 4 Balloon Payments ہوگی اور Rs 2,540,000 کی ایک    Possession Payment  ہو گی۔

3۔ مذکور بالا SHOP کی ڈاؤن پیمنٹ وصول ہونے پر فریقِ اول فریقِ دوم کو Provisional Allotment Letter جاری کرے گا۔

4۔  فريقِ اول منصوبہ / تعمیر کو چار (04) سال کی مدت کے اندر مکمل کرے گا، جس میں مزید ایک (01) سال کی مدت تک توسیع کی جا سکتی ہے،  مذکورہ بالا یونٹ / دکان / فلیٹ کا قبضہ مکمل اور حتمی قیمت فروخت کی ادائیگی کے بعد مقررہ مدت کے اندر فریق دوم کے حوالے کیا جائے گا، فریق اول اسی مناسبت سے Letter Transfer جاری کرے گا۔

5۔ سيل ايگريمنٹ (Sale Agreement)میں مذکور شرائط و ضوابط جن پر فریق دوم نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، فریق دوم پر لاگو ہوں گے۔

6۔ فریق اول مذکورہ بالا SHOP کا قبضہ صرف بجلی اور سوئی گیس کی Internal Line کے ساتھ فراہم کرے گا، جبکہ یوٹیلیٹی کنکشنز (Utility Connections) حاصل کرنا فریق دوم کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔

7۔ فريق دوم تمام ٹیکسز یعنی Transfer Fee حکومت یا کسی بھی دوسرے محکمے کی جانب سے عائد کردہ  دیگر ٹیکسز کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا۔

8۔پوری عمارت کا انتظام فریق اول کے پاس ہوگا اور فریق دوم Booking Form میں مذکور تمام چارجز ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

9۔  فريق دوم فریق اول کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر مذکورہ بالا Unit/Shop/Flat کسی دوسرے شخص کو کرائے پر نہیں دے گا۔

10۔ یہ قسطوں پر مبنی معاہدہ (installment-based contract) ہےاور معاہدے کے نفاذ کے وقت فریقین کے درمیان طے شدہ خریداری کی قیمت مقررہ اور حتمی (fixed and final) رہے گی،قسطوں کی مدت کے دوران طے شدہ خریداری کی قیمت میں کوئی تبدیلی اضافہ یا اضافی رقم شامل نہیں کی جائے گی۔

11 ۔اگر تین (3) ماہ مسلسل ماہانہ اقساط کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی  یا Grey Structure کی تکمیل پر یا قبضہ

( Possession) کے وقت واجب الاداء کسی بھی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو فریق اول فریق دوم کو تحریری نوٹس جاری کرے گا اور بقایا رقم ادا کرنے کے لیے ایک معقول مدت دے گا۔ اگر مذکورہ مدت کے اندر ادائیگی نہ کی جائے تو فریق اول بکنگ منسوخ کر سکتا ہے، کوئی جرمانہ، سود، تاخیر سے ادائیگی کی penalty یاکوئی دیگر مالی حرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔

12۔ فریق اول کی جانب سے منسوخی کی صورت میں یا کسی ایسے حقیقی (genuine) سبب کی بناء پر کہ  جس کی وجہ سےفریقِ دوم خریداری جاری رکھنے سے قاصر ہو اور منسوخی اور رقم کی واپسی کی درخواست کرے فریق اول مکمل رقم بغیر کسی کٹوتی کے 3 ماہ کی مدت کے اندر واپس کرے گا۔

13۔ فریقِ اول یونٹ کی قیمت اور چارجز کی مکمل ادائیگی اور تمام شرائط و ضوابط کی پابندی کے ساتھ ساتھ متعلق حکام کی جانب سے دستیابی اور مقررہ مدت (timelines) کے تابع، بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن فراہم کرے گا۔

14۔ فريقِ دوم یوٹیلیٹی کنکشن کے چارجز / بلز اور سروس چارجز اسی مناسبت سے ادا کرے گا،  سروس چارجز میں مشترک جگہوں (comman areas) اور سہولیات (facilities) کی دیکھ بھال شامل ہے اور ان میں وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ عدمِ ادائیگی کی صورت میں فریق اول متعلقہ سروس کو اس وقت تک معطل یا بند کر سکتا ہے جب تک کہ بقایا رقم ادا کر دی جائے، تاہم تاخیر سے ادائیگی کی  وجہ سے کوئی جرمانہ ( penalty) یاسود عائد نہیں کیا جائے گا۔

15۔ فریقِ دوم قبضہ دینے کا خط (Possession Letter )جاری ہونے کے 30 دن کے اندر قبضہ حاصل کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ تاخیر کی صورت میں حفاظتی/نگہداشت کی فیس Custodial Fee وصول کی جائے گی اور اس کے بعد ہونے والے کسی بھی نقصان یا خسارے کا فریق اول ذمہ دار نہیں ہوگا۔

16۔ فریقِ اول کی تحریری منظوری کے بغیر الائمنٹ (allocation) ناقابل منتقلى (non-transferable) ہوگی  اور ورثاء یا نئے خریداروں کو منتقلی فریقِ اول کی رضامندی / تحریری اجازت کے ساتھ ساتھ Transfer Fee وغیرہ کی ادائیگی سے مشروط ہوگی۔

17۔ فریقِ دوم یونٹ کو سختی سے اس کے مقررہ مقصد( designated purpose) کے لیے استعمال کرے گا اور کسی بھی میں ساختی تبدیلی(structural changes) یا ردوبدل(alterations)یا    یا بیرونی ساخت/بلندی(elevation)  میں کسی  قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا اور پیشگی تحریری منظوری کے بغیر یونٹ کو کرائے پر نہیں دے گا یا کسی دوسرے کو منتقل / تفویض (assign) نہیں کرے گا، نیز مشترکہ جگہوں (common areas) کا غلط استعمال نہیں کرے گا اور منصوبے کے کسی بھی حصے پرتجاوز (encroachment) نہیں کرے گا۔

18۔ چهت (rooftop) بیرونی دیواروں (exterior walls) کےسامنے کا بیرونی نقش / ظاہری حصہ (front elevation) اور مشترکہ جگہیں (common areas) مستقبل کی تعمیر وترقی یا تجارتی استعمال وغیرہ کے لیے فریق اول کی ملکیت میں رہیں گی۔ 

19۔ منصوبہ منظور شده نقشوں (approved plans) کے مطابق تعمیر کیا جائے گا، تاہم فریق اول کو تکنیکی با ضابطہ (regulatory) وجوہات کی بنا پر ضروری ڈیزائن /لے آؤٹ میں تبدیلیاں کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

20 ۔اگر اصل رقم ابتدائی طور پر طے شدہ رقبے كےحساب سے كم ہوتو فریق دوم مقررہ ریٹ کے مطابق اضافی رقم ادا کرے گا، تاہم اضافی طور پر ادا کی گئی رقم ایڈجست (adjust) کر دی جائے گی۔

21۔ فريقِ دوم وفاقی / صوبائی یا مقامی حکام کی جانب سے عائد کردہ تمام ٹیکسز محصولات (levies) اور چارجز کی ادائیگیوں کاذمہ دار ہو گا اور مشترک ملکیت (joint ownership) کی صورت میں تمام شریک مالکان شرائط کی پابندی اور ادائیگیوں کے لیے مشترک اور انفرادی طور پر (gointly and severally) ذمہ دار ہوں گے۔

 22۔ فریق اول اور اس کے نمائندگان کو یونٹ کے معائنے (Inspection) دیکھ بھال (Maintenance) سروس لائنز کی تنصیب (Installation of service lines) وغیرہ کے لیے یونٹ میں داخل ہونے کا حق حاصل ہوگا اور فریقِ دوم اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔

23۔ Force Majeure مثلاً قدرتی آفات ضابطہ جاتی تاخیر (regulatory delays) یا مارکیٹ میں خلل (market disruptions) کی صورت میں فریق اول کو منصوبے کی تکمیل اور قبضہ دینے کی تاریخ میں توسیع کا حق حاصل ہوگا،مزید برآن Force Majeure کے واقعے کے دوران ادائیگیاں معطل کی جا سکتی ہیں، اور صورتحال کے معمول پر آنے کے بعد دوبارہ شروع ہوں گی۔

24۔ فريقِ دوم تصدیق کرتا ہے کہ فراہم کرده تمام معلومات درست اور صحیح ہیں اور تمام شرائط و ضوابط پڑھ لیے گئے ہیں، سمجھ لیے گئے ہیں اور اسی مناسبت سے قبول کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ شرائط لازم (binding) اور ناقابل گفت و شنید (non-negotiable ہوں گی، سوائے ان صورتوں کے جہاں واضح طور پر کچھ اور بیان کیا گیا ہو۔

25۔ خریدار / خریداران (Purchasers) کی جانب سے کمپنی کے پاس جمع کرائی گئی کسی بھی رقم پر کوئی سود ادا نہیں کیا جائے گا۔

26 ۔دونوں فریق مذکورہ بالا طریقِ کار کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داری اور معاہدے کے تحت اپنے حصے کی کارکردگی انجام دیں گے، اس کے بعد یہ معاہدہ مکمل تصور کیا جائے گا۔

وضاحت طلب امور مع جوابات:

سوال نمبر1: اگر کل کو اللہ نہ کرے، کسی حادثے یا کسی وجہ سے پوری بلڈنگ منہدم ہو جاتی ہے تو شاپ مالکان کا کیا حق باقی رہے گا؟

جواب: اگر کوئی حادثہ آ جاتا ہے تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ جو زمین ہے، تمام افیکٹیز (متاثرہ مالکان) اس کی مالک ہوتی ہیں، اور پھر تمام افیکٹیز (متاثرہ مالکان) مل کر اس بلڈنگ کو اپنے بجٹ سے بنائیں گے۔ جو بھی اس کی لاگت (cost) آئے گی  وہ تمام افیکٹیز (متاثرہ مالکان) مل کر ادا کریں گے۔

سوال نمبر2: آپ  نے  نمبر8 میں لكھا  ہے کہ پوری عمارت کا انتظام فریق اول کے پاس ہوگا اور اس کے بدلے شاپ مالکان کمپنی کو چارجز ادا کریں گے، اس کی وضاحت فرما دیں کہ ان چارجز سے آپ کی کیا مراد ہے؟

جواب: اس سے مراد بلڈنگ کی مکمل دیکھ بھال اور انتظام کے اخراجات ہیں، مثلاً صفائی، سویپرز، لفٹ آپریٹرز، فائر فائٹنگ اسٹاف، انتظامی عملہ اور سیکیورٹی گارڈز وغیرہ۔ ان اخراجات کا کچھ حصہ بلڈر برداشت کرے گا، جبکہ باقی اخراجات فائل/یونٹ ہولڈرز میں تقسیم ہوں گے۔

سوال نمبر3: آپ کہتے ہیں کہ شاپ کا روف ٹاپ، ایکسٹیریئر والز (بیرونی دیواریں)، کامین ایریاز وغیرہ کمپنی کے پاس رہیں گے۔ اس سے کیا مراد ہے؟

جواب: روف ٹاپ کمپنی کے پاس ہے اور کمپنی ہی اس کی مالک ہے، اور اسے فروخت نہیں کیا جا رہا۔ وہاں ہمارا اپنا ایک ریسٹورنٹ ہوگا، جس کے لیے ہم ایک بہت بڑے برانڈ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایلیویشن کے حوالے سے یہ اس لیے لکھا گیا ہے کیونکہ بلڈنگ کا ڈیزائن بہت اعلیٰ اور پریمیم ہے، جس میں چار تہوں والی پرفوریٹڈ شیٹس، آر جی بی لائٹس، شیشہ، اسٹرکچر اور ریلنگز شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں کی صفائی، دیکھ بھال اور انتظام کمپنی خود کرے گی۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی طرف سے سائن بورڈز یا بل بورڈز لگا لیتے ہیں، جس سے بلڈنگ کی خوبصورتی اور ڈیزائن متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایسے سائن بورڈز یا بل بورڈز لگانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ان تمام معاملات کی نگرانی کمپنی خود کرے گی۔

سوال نمبر4: آپ نے لکھا ہے کہ شاپ صرف designated purpose کے لیے استعمال کی جا سکے گی، یعنی اگر کل کو آپ کہیں کہ یہ شاپ صرف اور صرف ریسٹورنٹ کے مقصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے تو اگر میں اپنی شاپ کو کلاتھ، فیشن یا ریٹیل کے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہوں، یا کسی کو اسی مقصد کے لیے آگے کرائے پر دینا چاہوں، تو کیا مجھے اجازت ہوگی؟

جواب: دکانیں کسی ایک مخصوص مقصد کے لیے مختص نہیں ہوں گی۔ اس میں ریسٹورنٹس، کھانے پینے کے حوالے سے کیفے، فیشن برانڈز، ہائی ٹیک اور بوتیک اسٹورز شامل ہوں گے۔ یعنی مجموعی طور پر ایسا نہیں ہے کہ صرف ریسٹورنٹس اور ڈائننگ کیفے ہی ہوں گے، بلکہ فیشن اور فوڈ کے حوالے سے مختلف برانڈز بھی یہاں موجود ہوں گے۔

البتہ اس میں صرف اچھے اور ہائی اینڈ برانڈز لائے جائیں گے جنہیں ہم خود حاصل کریں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ فروخت کے بعد ان شاپس کے کرایوں (Rentals) کا انتظام بھی ہم خود کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کیے گئے معاہدے کا تفصیلی  مطالعہ کیا گیا اور قابل وضاحت امور کی وضاحت بھی کمپنی کی طرف سے  موصول ہو ئی، اس معاہدہ  میں   درج ذیل دو باتوں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے:

پہلی بات :  

اس میں  شق نمبر 18 کے تحت  ذکر کی گئی عبارت میں تبدیلی کی ضرورت ہے ، کیونکہ اس میں یہ لکھا گیا ہے کہ"  پلازہ کی چھت ، بیرونی دیواروں اور مشترکہ  جگہوں کی ملکیت کمپنی کے پاس رہے گی" اس  میں پلازہ کی اوپر والی چھت  کا استثناء    تو درست ہے، البتہ بیرونی دیواروں  اور  مشترکہ جگہوں جیسے گلیوں وغیرہ  کی ملکیت کمپنی کے لیے قرار دینا درست نہیں، کیونکہ    جب خریدار نے دکان خرید لی تو اس کی اندرونی اور بیرونی دیواروں کی ملکیت بھی اسی کی ہو گی،   اسی طرح  جب  پلازہ کی تمام  دکانیں خریدار خرید چکے تو اس کی مشترکہ  جگہیں بھی ان کی ملکیت شمار ہوں گی، کیونکہ مشترکہ جگہیں جیسے دکانوں کے سامنے راستہ  اوردروازوں  کے سامنے کی جگہ وغیرہ  دراصل دکانوں  میں کاروبار  کرنے کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ ان کے بغیر کاروبار نہیں کیا جا سکتا، اس لیے  ان مشترکہ جگہوں کی حیثیت  دکانوں کے وصف لازم کی ہو گی   اور وصفِ لازم خریدی  گئی  چیز  کا لازمی حصہ شمار  ہوتا ہے۔ نیزعام طور پر اس طرح کے پلازہ میں دکانوں کی قیمت طے کرتے وقت  مشترکہ جگہوں کی قیمت بھی شامل کی جاتی ہے،   گویا کہ دکانوں کے خریدار مشترکہ طور پر ان سب جگہوں کی قیمت بھی ادا کر چکے ہیں ، اس لیے پلازہ کی  مشترکہ جگہوں کو کمپنی کی ملکیت قرار دینا درست نہیں۔

البتہ چونکہ  پلازہ کا مکمل انتظام کمپنی  نے اپنے پاس رکھا ہے ،  جس میں دکانوں کے خریداروں کا بھی فائدہ ہے،  اس لیے باہمی رضامندی سے یہ شق لکھ دی جائے تو درست ہے کہ" دکانوں کی بیرونی دیواروں  کی ڈیکوریشن  اور ڈیزائن  بنانے اور مشترکہ   جگہوں  کی حفاظت اورصفائی ستھرائی کے لیے  انتظام مکمل طور پر پلازہ کی انتظامیہ کے پاس ہو گا،  جس میں دکاندار کو خلل ڈالنے کا اختیار نہیں ہو گا۔"

دوسری بات :   

دوسری بات یہ کہ   قابل ِ وضاحت امور کے تحت سوال نمبر 1 کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق معاہدہ میں اس شق کا اضافہ  کیا جائے کہ " پلازہ کی زمین تمام دکانوں کے خریداروں کی مشترکہ  ملکیت شمار ہو گی، لہذا اگر خدانخواستہ  کسی ناگہانی آفت وغیرہ کی وجہ سے پلازہ کی عمارت گر جائے توتمام افیکٹیز (متاثرہ مالکان) مل کر اس بلڈنگ کو اپنے بجٹ سے بنائیں گےاور جو بھی اس کی لاگت (cost) آئے گی  وہ تمام افیکٹیز (متاثرہ مالکان) مل کر ادا کریں گے۔"

اس كے علاوه  پلازہ کی انتظامیہ کا خریداروں کی باہمی رضامندی سے  انتظام سے متعلق چیزیں اپنے اختیار میں  رکھنے میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ بڑی سطح کے تجاری مقاصد حاصل کرنے کےلیے  اعلی برانڈ، دلکش ڈیزائن   اور معیاری چیزوں وغیرہ  کاہونا ضروری ہے، اس لیے بقیہ تفصیل کی روشنی میں یہ معاہدہ شرعی اعتبار سے درست  ہے۔  

حوالہ جات

فقه البیوع (2/799): للشيخ محمد تقي العثماني، مكتبة معارف القرآن كراتشي:

ما یدخل في البیع وما لایدخل:     مسائل هذا الباب متفرعة علی أصول آتیة:

الأول: أن کل ما هو متناول اسم البیع بأن یعتبر من أجزائه عرفًا یدخل في البیع، وإن لم یذکر في العقد صراحةً. وهذا مثل من باع دارًا أوشقةً، فإنه یدخل فیه جمیع غرفه، ومطبخه، وبَهْوُه، ودورة المیاه فیه؛ فإن اسم الدار یتناول الجمیع عرفًا. ولکن لایدخل فیه عِلوُه إلا بالتصریح؛ لأن لفظ الدار لایتناوله دائما. بخلاف ما إذا باع فِلّةً، فهو شامل في  العرف للعلو والسفل، فیدخلان في البیع، إلا إذا استثنی أحدهما.  

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

26/ربیع الاول 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب