03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ
92521زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ہمیں گزشتہ 26 سال کے غیر ادا شدہ زکوٰۃ کے ایک اہم شرعی مسئلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔

واقعاتی تفصیلات اور سوالات درج ذیل ہیں:

1999 میں ہماری والدہ محترمہ کی شادی کے موقع پر انہیں والدین یا سسرال کی طرف سے سوا دو تولہ سونا ملا تھا، جو ان کی  ملکیت میں رہا۔

شادی کے 6 سال بعد، یعنی 2006 میں والدہ محترمہ وفات پا گئیں۔ ان 6 سالوں کے دوران یہ سوا دو تولہ سونا والدہ محترمہ ہی کی ملکیت میں رہا، تاہم ہمیں یا والد صاحب کو یہ علم اور کنفرمیشن نہیں ہے کہ والدہ نے ان کی زندگی میں ان 6 سالوں کی زکوٰۃ ادا کی تھی یا نہیں۔

2006 میں والدہ کے انتقال کے ایک سال بعد، یعنی 2007 میں والد صاحب نے دوسری شادی کی۔2007میں والد صاحب کی شادی میں ماں کو 4 گرام سونا ملا۔

اس 4 گرام سونے پر بھی جو زکوٰۃ تھی وہ ہم نے نہیں دی، بالکل ادا نہیں کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ گھر کے استعمال کی چیز ہے۔

2006 میں والدہ کے انتقال کے بعد سے 2026 تک اور 2007 میں دوسری امی کو ملا ہوا یعنی سوا دو تولہ سونا اور 4 گرام سونا ہمارے پاس ہی محفوظ رہا ہے۔ اس دوران زکوٰۃ اس لاعلمی کی وجہ سے ادا نہ ہو سکی کہ والد صاحب کے نزدیک "استعمالی سونے پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی"۔

سونے کی فروخت:

یہ سونا ہمارے پاس 2025 تک رہا۔ 2025 میں ہم نے اس میں سے ایک تولہ سونا بیچا، اور جو بقایا سونا تھا وہ ہم نے

2026 میں بیچا ہے۔ اب ہم تمام گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

اب دریافت یہ کرنا ہے کہ والدہ کی زندگی کے 6 سالوں (1999 تا 2006ء) کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟اگر یہ معلوم نہ ہو کہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں زکوٰۃ دی تھی یا نہیں، تو کیا ورثاء پر ان کی طرف سے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے؟اگر لازم ہے تو 26 سالوں  کی زکوٰۃ جو ادا نہیں کی گئی ہے اس  کا حساب کس سال کے ریٹ سے لگایا جائے گا؟چونکہ 26 سالوں میں سونے کی قیمتوں میں بہت بڑا فرق آیا ہے۔ ماضی میں قیمتیں بہت کم تھیں اور اب بہت زیادہ ہیں، تو کیا زکوٰۃ کا حساب ہر سال کے اپنے وقت کی موجودہ قیمت Current Rate of That Year کے حساب سے لگایا جائے گا؟یا پھر تمام سالوں کا حساب آج کے موجودہ ریٹ کے مطابق کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے زکوٰۃ کی ادائیگی کی وصیت نہیں کی تھی، اس لیے مرحومہ کا مکمل ترکہ شرعی حصص کے مطابق ورثہ میں تقسیم ہوگا اور ورثہ پر مرحومہ کی جانب سے زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ، تاہم اگر تمام ورثہ اپنی رضامندی سے تبرعاً مرحومہ کی حیات کے چھ سالوں کی زکوٰۃ ادا کردیں، تو ان شاء اللہ اس طرح زکوٰۃ ادا کرنے سے مرحومہ کا ذمہ بری ہوجائے گا۔

چونکہ مرحومہ کی وفات کے بعد سونا ورثہ کی مشترکہ ملکیت تھی ، اس لیے اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر، یعنی آپ کے والد صاحب کو ایک چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا، جبکہ باقی تین چوتھائی (4/3) آپ دونوں بھائیوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوں گے۔

چنانچہ آپ کے والد صاحب نے 2006ء سے 2026ء تک اپنے حصے میں آنے والے ایک چوتھائی (4/1) سونے کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، اس لیے ان پر ان تمام سابقہ سالوں کی زکوٰۃ بالترتیب ادا کرنا لازم ہے، جس کا طریقہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

اسی طرح آپ اور آپ کے بھائی والدہ  کی وفات کے وقت نابالغ تھے، اس لیے بلوغت سے پہلے کے عرصے میں آپ دونوں کے حصوں پر زکوٰۃ واجب نہیں تھی،  البتہ بلوغت کے بعد سے سونا فروخت ہونے تک، اگر سونے کے ساتھ کچھ نقدی بھی موجود ہو، خواہ معمولی مقدار میں  ہی کیوں نہ ہوں، تو اس عرصے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ :

جس وقت گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے، اس وقت ہر سال کے لیے اُسی سال کی قیمتِ فروخت کے اعتبار سے زکوٰۃ کا حساب کیا جائے، یعنی جس سال زکوٰۃ واجب ہوئی تھی، اس سال سونے، نقدی وغیرہ کی مجموعی مالیت معلوم کی جائے،تاہم اگر گزشتہ سالوں کی  سونا وغیرہ  کی قیمت معلوم کرنا مشکل ہو تو موجودہ قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرنا بھی درست ہے، لہٰذا حساب لگانے کے بعد  سب سے پہلے سال 2007ء کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے نکالی جائے، پھر دوسرے سال، یعنی 2008ء کی زکوٰۃ نکالتے وقت کل مالیت میں سے گزشتہ سال کی زکوٰۃ کی رقم منہا کرکے باقی مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کے طور پر ادا کیا جائے گا۔ اسی طرح ہر اگلے سال کی زکوٰۃ نکالتے ہوئے گزشتہ سال کی زکوٰۃ کی رقم منہا کی جاتی رہے گی،اگر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نکالتے ہوئے کسی مرحلے پر (مثلا 8سالوں کی) زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد مجموعی مالیت زکوٰۃ کے نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت سے کم رہ جائے،تو اس کے بعد کے سالوں کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 227):

أنه لو مات من عليه الزكاة لا تؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها، وهو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 760):

(قوله وأما دين الله تعالى إلخ) محترز قوله من جهة العباد وذلك كالزكاة والكفارات ونحوها قال الزيلعي فإنها تسقط بالموت فلا يلزم الورثة أداؤها إلا إذا أوصى بها؛ أو تبرعوا بها هم من عندهم، لأن الركن في العبادات نية المكلف وفعله، وقد فات بموته فلا يتصور بقاء الواجب اهـ

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص98):

 (ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 72):

(قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد. مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت.

(قوله يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك إمداد.

ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث، فقد قال محمد في الزيادات: إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطا لاحتمال كون النص فيه معلولا بالعجز فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولا تكون الفدية برا مبتدأ يصلح ماحيا للسيئات فكان فيها شبهة كما إذا لم يوص بفدية الصوم فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 258):

 (قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 4):

ومنها البلوغ عندنا فلا تجب على الصبي وهو قول علي وابن عباس فإنهما قالا: " لا تجب الزكاة على الصبي حتى تجب عليه الصلاة ".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 22):

وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.

الأصل لمحمد بن الحسن (2/ 82):

قلت فإذا أخذها بعد سنين قال يزكيها للسنة الأولى خمسا وعشرين درهما فهذه زكاة الألف ويزكي السنة الثانية ألفا غير خمسة وعشرين ، قلت فإن توالت عليه سنون زكى لأول سنة ألفا كاملا ثم ينقص في كل سنة تلك الزكاة التي زكى أبدا كذلك حتى تنقض من مائتي درهم قال نعم وليس في أقل من مائتي درهم زكاة ولا صدقة.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب