| 90845 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ہم سب ایک فیملی میں ایک دادا کی اولاد اور ان کے پوتے نواسے وغیرہ ایک گھر میں رہتے تھے، جس میں دادا کی اولاد میں سب سے بڑے میرے والد صاحب تھے، ان کو رزق حلال کے کمانے کیلئے قطر جانا پڑا ،اس وقت والد صاحب کی عمر تقریبا 20 سال تھی، دادا اور چچے سب گھر پر ہی تھے ، والد صاحب نے زمین لی گھر بنوایا، اسی میں سب رہتے تھے ، گھر کے اخراجات سب کچھ والد صاحب کی کمائی سے ہو رہا تھا اور گھر پر ایک بھائی کو یعنی میرے چچے کو منتخب کردیا، جس کو ہر مہینے گھر کا خرچہ علاج معالجہ وغیرہ سب گھر والوں کےلئے پیسے بھیجتے تھے، وہی چچا گھر پر یہ گھریلو کام کرتے تھے، باقی دو چچے مدرسے میں اس وقت مدرس تھے اور دوسرے چچے کو قطر کا ویزہ کرکے اپنے ساتھ قطر لےکر گیا، اس کےلئے بس ڈرائیونگ لائسنس کی ترتیب بناکر اس کو بھی کسی کمپنی میں لگادیا، پھر دونوں کا مال والد صاحب اکٹھا کرکے گھر بھیجتے تھے، باقی بھائیوں کی شادیاں کروائیں وغیرہ وغیرہ۔پھر رفتہ رفتہ والد صاحب بیمار پڑ گئے، کافی عرصہ بیماررہے، بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی قطر کا سفر کرتے تھے، لیکن جب بھی بیماری بڑھ جاتی تھی تو گاؤں آجاتے تھے، کیونکہ دوسرا چچا بھی کما رہا تھا ۔
بالآخر دو چچے مزید دبئی چلے گئے اور گھر کےلئے اسی چچے کو پیسے بھیجتے تھے، جس کو والد صاحب نے گھر پر منتخب کیا تھا ،پھر والد صاحب کی عمرجب 45 سے بڑھنے لگے تو قطر کا ویزہ کینسل کرتے ہوئے میرے بھائی کےلئے ویزہ کے پیسےدبئی والے دو چچوں کو دیے کہ میرے بیٹے کو ان پیسوں سے ویزہ لگوا دیں، تاکہ وہ بھی آپ لوگوں کے ساتھ کمائیں اور خود والد صاحب ویزہ کینسل کرکے گھر آئے، کیونکہ مزید کمانے کی طاقت نہیں تھی، پھر ایک سال بعد دبئی والے چچے بھی دبئی سے کینسل ہوکے آگئے اور قطر میں جس چچے کو والد صاحب نے لےکر گئے تھے، اس کا بھی کام کاج نہیں تھا تو اس وقت سے پھر میرے بھائی نے بھی پورے مشترکہ فیملی کے اخراجات گھر پر منتخب شدہ چچے کو بھیجتے تھے، لیکن اس وقت میرے والد صاحب پھر سے بیمار ہوگئے، کرونا کے سال انتقال کرگئے، جبکہ میرے دادا ابھی تک حیات تھے، لیکن گھر کے معاملات میں دادا کا کوئی دخل نہ تھا، وہ بس گھر پر رہتے تھے، دعوت وتبلیغ کے مشغلہ میں اور ورزش کےلیےمال مویشی چراتے تھے۔
لیکن جب والد صاحب انتقال کرگئے، اس کے ایک سال بعد گھر میں اختلاف بڑھتے گئے تو میں نے چچوں سے علیحدہ ہونے کی بات کی تو غصہ ہونے لگے، لیکن بالآخر میری بات سب چچے مان گئے اور صرف ہمیں علیحدہ کردیا ، باقی سب چار چچے ایک ساتھ تھے ، گھر کی تقسیم ہوئی، ہمیں گھر میں حصہ دیا اور سب کچھ چچوں سے الگ کردیا، کھانا پینا وغیرہ سب کچھ علیحدہ ہوگیا، زمینوں کی تقسیم کے متعلق جرگہ والوں نےکہا کہ اس وقت زمینوں کی تقسیم مناسب نہیں ہے، دادا اور دادی ابھی حیات ہیں، باقی اگر کسی نے مشترکہ فیملی کے دوران قرضہ لیا ہو تو وہ بتائیں، تاکہ اس کو پانچ بھائیوں پر تقسیم کرلیں، ایک چچا نے بتایا کہ میں نے کسی بندے سے قرضہ لیا ہے تو اس کو پانچ بھائیوں پر تقسیم کرکے والد صاحب مرحوم کا ایک حصہ ہم پر لازم کردیا،کیونکہ ان کا بھائی تھا ۔
الحمدللہ ہم نے اپنے حصے کی قرضے کی رقم چچوں کو دےدی، تاکہ جس سے یہ قرضہ لیا ہے انہیں واپس کردیں اور زمین کی تقسیم اس وقت چھوڑ دی، جرگے والوں نے بھی بتایا کہ اس کی تقسیم برابری کی حیثیت سے کرلیں گے، ابھی مناسب نہیں ہے، بس اسی دن سے ہم چچوں سے علیحدہ ہوگئے ، پھر اس کے ایک سال بعد دادا کا بھی انتقال ہوا اور اس پر بھی کئی سال گزر نے کےبعدچچے کےایک قریبی رشتےدار نے میرے چھوٹے بھائی کو بتایا کہ زمینوں میں آپ لوگوں کا حصہ نہیں بنتا ، جبکہ سات کھیتوں میں سے تین بڑے بڑے کھیت میرے والد صاحب نے خود خریدے تھے اور گھر کی تعمیر میرے والد صاحب نے خود کی،باقی کھیت چچوں نے لےلیے، لیکن جو بھی زمین لی جاتی تھی، مشترکہ حساب سے مشورے کے ساتھ خریدی جاتی تھی، اب کیا اس میں ہمارا حصہ نہیں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ آپ کے والد صاحب سمیت سب بھائی اکٹھے کام کرتے تھے، گھر میں بھی کھانا پینا سب کا مشترکہ تھا، کمائی میں بھی سب مشترک تھےاورآپ کے والد صاحب کی زندگی بھرکی کمائی بھی مشترکہ اخراجات میں ہی صرف ہوئی اور جب آپ کے والد صاحب بیمار ہوئے تو آپ کے بھائی چچوں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے، اس لیے شرعی اعتبار سے آپ حضرات کے علیحدہ ہونے تک مشترکہ آمدن سے جتنی جائیداد خریدی گئی ہے اس میں سب بھائیوں کے درمیان برابری کے طریقہ پر شرکتِ ملک (اس میں ہرشریک اپنے حصے کی چیز کا شرعاً شمار ہوتا ہے) قائم ہو گئی، اس لیے وہ آپ کے والداوران کےسب بھائیوں میں مشترک شمار ہو گی، لہذا آپ کے چچوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشترکہ آمدن سے خریدی گئی تمام زمینوں کو سب بھائیوں میں برابر تقسیم کر کے آپ کے والد صاحب کا حصہ آپ لوگوں کے حوالے کریں۔
یہ بھی یاد رہے کہ ان زمینوں میں آپ کے دادا اور پھوپھیوں کا شرعی اعتبار سے کوئی حصہ نہیں ہو گا، کیونکہ ان زمینوں کی خریدوفروخت میں دادا کی کمائی شامل نہیں ہے، لہذا یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ چونکہ آپ کے والد صاحب کا انتقال دادا کی زندگی میں ہوا ہے اس لیے وہ ان زمینوں میں حق دار نہیں ہیں، کیونکہ یہ اصول دادا کی وراثت میں جاری ہو گا، نہ کہ ان سب بھائیوں کی مشترکہ بنائی گئی جائیداد میں، اسی طرح پھوپھیاں بھی شرعی اعتبا سے اپنے والد یعنی آپ کے دادا کی وراثت میں حقدار ہوں گی، لہذا آپ کے والد اور چچوں کی کمائی میں وہ شرعاً حصہ دار نہیں ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 325) دار الفكر-بيروت:
(وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمد. وعند أبي يوسف لا يجاوز به نصف ثمن ذلك)
مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها................ وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالوا هم أو امرأته بعد موته: إن هذا استفدناه بعد موته فالقول لهم، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 92) الناشر: دار المعرفة،بيروت:
(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟
(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج اهـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا.
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 93) الناشر: دار المعرفة،بيروت:
والواقع في السؤال شركة ملك فيما يظهر إذ لم يذكر فيه أنهم عقدوا شركة فيما بينهم ولا أن التركة نقود أو عروض بيع بعضها ببعض فالظاهر أنها شركة ملك لا يجري فيها تفاوت في الربح بل يكون ما في أيديهم بينهم سوية كما مر وهذه المسألة تقع كثيرا خصوصا في أهل القرى حيث يموت الميت منهم وتبقى تركته بين أيدي ورثته بلا قسمة يعملون فيها وربما تعددت الأموات وهم على ذلك وقد يتوهم أنها شركة مفاوضة وذلك باطل لأن شركة المفاوضة لها شروط منها العقد بلفظ المفاوضة فإن لم يذكر لفظها فلا بد من أن يذكر تمام معناها بأن يقول أحدهما للآخر وهما حران بالغان مسلمان أو ذميان شاركتك في جميع ما أملك من نقد وقدر ما تملك على وجه التفويض العام من كل منا للآخر في التجارات والنقد والنسيئة وعلى أن كلا ضامن عن الآخر ما يلزمه من أمر كل بيع كما في البحر ومنها أنها لا تكون بين صبي وبالغ وأنها لا تصح بالعروض وأنها تبطل بالموت ولا يخفى أن الواقع في زماننا ليس فيه شيء من ذلك فليس للمفتي أن يفتي بأنها مفاوضة ويلزمهم بأحكامها بأن يلزمهم مثلا بأن ما لزم أحدهم من دين يلزم الآخر نعم إن صرحوا له بأنهم شركاء مفاوضة يفتيهم بأحكامها وليس عليه أن يسألهم عن استيفاء شرائط العقد كما لو سئل عن غيرها من العقود كما صرح به في البزازية.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
14/محرم الحرام1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


