| 92306 | نماز کا بیان | اوقاتِ نمازکا بیان |
سوال
ہم متحدہ عرب امارات میں ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں۔ دفتر میں مسجد موجود نہیں، لہٰذا ظہر اور عصر کی نماز دفتر ہی میں ایک مخصوص جگہ پر باجماعت ادا کی جاتی ہے۔
اس سلسلے میں پوچھنا ہے کہ دفتر میں جماعت کا کوئی متعین وقت نہیں۔ جب چند افراد فارغ ہوتے ہیں تو فوراً جماعت کھڑی کر دی جاتی ہے، حالانکہ معلوم ہوتا ہے کہ چند ساتھی قریب ہی وضو کر رہے ہوتے ہیں، اگر صرف ایک دو منٹ انتظار کیا جائے تو وہ بھی جماعت میں شریک ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا انتظار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے بعض افراد کی ایک یا دو رکعت فوت ہو جاتی ہے۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی ذکر کردہ صورت میں بہتر یہ ہے کہ تمام افراد کی مشاورت سے جماعت کی نماز کا ایک وقت مقرر کر لیا جائے،پھر مقررہ وقت پر بعض لوگ وضو وغیرہ کی حالت میں ہوں تو ان کے لیے مختصر سا انتظار کر لینا چاہیے ،تاکہ وہ بھی باجماعت نماز کے ثواب سے محروم نہ رہیں اور اگر بعض افراد کو پہنچنے میں زیادہ تاخیر ہواور انتظار کی صورت میں دوسرے حضرات کا حرج ہو ، تو مقررہ وقت پر جماعت ادا کی جاسکتی ہے ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 57):
ينبغي أن يؤذن في أول الوقت ويقيم في وسطه حتى يفرغ المتوضئ من وضوئه والمصلي من صلاته والمعتصر من قضاء حاجته. كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص56):
(ويثوب)بين الاذان والاقامة في الكل للكل بما تعارفوه (ويجلس بينهما) بقدر ما يحضر الملازمون مراعيا لوقت الندب (إلا في المغرب).
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 495):
وأشار إلى أن الكلام في المصلي، فلو انتظر قبل الصلاة ففي أذان البزازية لو انتظر الإقامة ليدرك
الناس الجماعة يجوز لواحد بعد الاجتماع لا إذا كان داعرا شرير ا.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
16/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


