| 92530 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
بیوی نے غصے میں شوہر سے کہاکہ تم مجھے طلاق کیوں نہیں دے دیتے؟شوہر نے صرف بحث ختم کرنے اور جان چھڑانے کے لیے کہہ دیا: ٹھیک ہے۔پھر بیوی نے پوچھا: سچ میں دے دو گے؟ اور کب دو گے؟ تو شوہر نے نیند کے غلبے میں کہا: جب بھی تم کہو۔
بیوی نے کہا: صبح؟ تو شوہر نے کہا: جب بھی تم کہو۔
شوہر کی نیت طلاق دینے کی بالکل نہیں تھی، بلکہ صرف بات ختم کرکے سونے اور جان چھڑانے کی تھی۔ اس کے بعد شوہر سو گئے اور کوئی لفظ مزید نہیں بولا۔
شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا مذکورہ گفتگو سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم طلاق کا مسئلہ حساس ہے ، اس لیے آئندہ ایسی بحث و تکرار سے حتی الامکان اجتناب کریں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 230):
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (4/ 7):
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال، ولو قالت أنت طالق فقال: نعم طلقت. ولو قال له في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 436):
قوله: قالت له أنا طالق فقال: نعم إلخ. الفرق بين المسألتين أن معنى نعم بعد قولها أنا طالق نعم
أنت طالق ومعناها بعد قولها طلقني نعم أطلقك فيكون وعدا بالطلاق لأنها لتقرير ما قبلها.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


