| 92528 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ڈراپ شپنگ کا کیا حکم ہے ؟اگر اس میں غیر مملوک چیز کی خرید و فروخت ہو تو اس کی جائز صورتیں کیا ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں کسی چیز کو فروخت کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ چیز فروخت کنندہ کا مملوک ہو اور زمین کےعلاوہ کی بیع ہونے کی صورت میں اس کے قبضہ میں بھی ہو۔ ڈراپ شپنگ میں دکاندار غیر مملوک اور غیر مقبوض چیزکی بیع کرتا ہے،کیونکہ وہ خریدار سے رقم وصول کرکے اس کےساتھ عقد کر لیتا ہے، اس کے بعد وہ ہول سیلر سے چیز خرید کر اس پر قبضہ کیے بغیر ہول سیلر کے ذریعے وہ خریدار کو بھیج دیتا ہے اور ایسی بیع حدیث کی رو سے ممنوع ہے۔
اس کے متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
1: دکاندار ہول سیلر کے ساتھ عقد وکالہ کرے ،جس کی صورت یہ ہے کہ دکاندار ہول سیلر کے وکیل کی حیثیت سے چیز بیچےاور اس کےبدلے میں وہ ہول سیلر سے طے شدہ وکالہ فیس لیتا رہے۔ واضح رہےکہ اس طر ح چیز بیچنے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ چیز رقم وصول کرکے عقد کرنے کے وقت کم ازکم ہول سیلر کےپاس موجود ہو یعنی آوٹ آف اسٹاک نہ ہو۔اس صورت میں مروجہ قانون کے مطابق چیزواپس کرنےپر ہول سیلر اس کو قبول کرنے کا پابند ہوگا ۔
2: دکاندار وعدہ بیع کرلے ، جس کی صورت یہ ہےکہ دکاندار خریدار سے رقم وصول کرکے اس کے ساتھ وعدہ بیع کرلے، اس کے بعد ہول سیلر سے وہ چیز خریدےپھر اس پر خود قبضہ کرکے یا مال لے جانےوالے ڈرائیور کو اس پر قبضہ کرنے کا وکیل بنا کر خریدار کو پہنچائے ،مال پہنچنے پر تعاطیا بیع مکمل ہو جائے گی۔
3: بائع یا اس کا وکیل ہول سیلر کے پاس جاکر چیز خریدے ،پھر ہول سیلر کے دکان کا ایک مخصوص حصہ کرایہ پر لے کر اس میں مبیع کو رکھ دے، اس کے بعد آرڈر آنے پر ہول سیلر کو بطور وکیل اپنی طرف سے ڈیلیوری کا حکم دے دیں۔)ماخوذ ازتبویب )
حوالہ جات
المعجم الاوسط ( 2/154 ،رقم الحدیث:1554)
حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146)
(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ... وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط،
مجلة الأحكام العدلية (ص: 52)
(المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


