| 92549 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے ایک عالمِ دین سے سنا کہ مسلمانوں کے اعمال نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے گناہوں کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اب میں گناہ بھی چھوڑ رہا ہوں اور نماز بھی شروع کر رہا ہوں، لیکن اب مجھے شرک کا وسوسہ آ رہا ہے کہ میں رب کی خاطر گناہ چھوڑنے کے بجائے اس نیت سے عبادات کر رہا ہوں اور گناہ چھوڑ رہا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کو رنج نہ پہنچے۔
برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں؛ کیونکہ میں نے مفتی اکمل مدنی صاحب کا ایک کلپ سنا جس میں وہ سنت نماز کی نیت میں کی جانے والی غلطی ’’ واسطے رسول اللہ کے‘‘کے بارے میں رہنمائی فرماتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہوتی ہے، اور غیر اللہ کی رضا کے لیے، غیر اللہ کے قرب کے لیے اور غیر اللہ کے تقرب کے لیے عبادت کرنا شرک ہے اور بندہ کافر ومرتد ہو جاتا ہے۔
رہنمائی فرما دیں؛ کیونکہ میں گناہ اس لیے چھوڑ رہا ہوں تاکہ نبی کریم ﷺ کو رنج نہ پہنچے، مگر مجھے شرک کا وہم اور وسوسہ آ رہا ہے کہ میرا یہ عمل (عبادات کرنا، نماز پڑھنا اور گناہ چھوڑنا) رب کے لیے نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے لیے ہو رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں آپ کا یہ عمل شرک نہیں ہے؛ کیونکہ شرک یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کو عبادت کے لائق سمجھے۔ جبکہ آپ کے معاملے میں عبادت خالصتاً اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، کسی مخلوق کے لیے نہیں۔
باقی نیکی کی طرف آنا یا گناہ کو اس لیے چھوڑنا کہ حضور ﷺ کو رنج اور تکلیف نہ پہنچے، یہ کوئی شرک نہیں بلکہ درحقیقت یہ عمل اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے؛ کیونکہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی رضا کو اپنی رضا اور آپ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کو اپنی فرمانبرداری قرار دیا ہے۔
لہٰذا آپ اس خیال کی پروا نہ کریں، یہ شیطانی وسوسہ ہے تاکہ آپ کو وہم اور شک میں الجھا کر نیکی اور نماز سے دور کر دے۔ البتہ جب بھی یہ وسوسہ آئے تو دل ہی دل میں اپنی نیت کی تجدید کر لیا کریں کہ میری عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔
حوالہ جات
تفسير البيضاوي (3/ 87، بترقيم الشاملة)
﴿وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ﴾ أحق بالإِرضاء بالطاعة والوفاق، وتوحيد الضمير لتلازم الرضاءين.
قال الله سبحانه وتعالى:
﴿مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗا٨٠﴾ [النساء: 80]
قال ابن كثير في تفسيره (2/ 363، بترقيم الشاملة)
يخبر تعالى عن عبده ورسوله محمد صلى الله عليه وسلم بأنه من أطاعه فقد أطاع الله، ومن عصاه فقد عصى الله، وما ذاك إلا لأنه ما ينطق عن الهوى، إن هو إلا وحي يوحى.
الجواهر البهية على شرح العقائد النسفية للأفغاني (150/2)
((الإشراك هو إثبات الشريك في الألوهية بمعنى وجوب الوجود كما للمجوس أو بمعنى استحقاق العبادة كما لعبدة الأصنام.))
قالوا (يعني عبدة الأصنام): ﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى﴾ ويشفعوا لنا عنده، وينالنا بسبب قربهم من الله و كرامته لهم قربٌ و كرامةٌ ؛ كما هو المعهود في الدنيا من حصول الكرامة والزلفى ؛ ممن يخدم أعوان الملك و أقاربه و خاصته ، و الكتب الإلهية كلها من أولها إلى آخرها تبطل هذا المذهب و ترده و تقبح أهله ، وتنص على أنهم أعداء الله سبحانه ، و جميع الرسل والأنبياء - صلوات الله عليهم - متفقون على ذلك من أولهم إلى آخرهم ، و ما أهلك الله سبحانه من الأمم إلا بسبب هذا الشرك ، و من أجله.
محمد طیب جاویدبن محمد جاوید اختر
دار الافتاء، جامعۃ الرشید
01/جمادی الاول/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طیب جاوید بن محمد جاوید اختر | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


