03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معاہدہ میں استاذ کے "میں نے کسی بچے کو مارا تو میری بیوی کو تین طلاق” لکھنے کا حکم
91494طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

معاہدہ میں استاذ کے "میں نے کسی بچے کو مارا تو میری بیوی کو تین طلاق" لکھنے کا حکم

ایک مہتمم صاحب نے اپنے شعبہ حفظ کے تمام اساتذہ کرام سے یہ تحریر لکھوائی کہ: میں اقرار کرتا ہوں کہ مدرسے کے قوانین کے مطابق کسی بچے کو چھڑی سے ماروں یا ہاتھ سے ماروں یا کسی بھی چیز سے ماروں تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں" یہ تحریر سب اساتذہ سے علیحدہ علیحدہ لکھوائی اور سب نے اس پر دستخط کیے، اب مہتمم صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہمارے درمیان معاہدہ ہوا تھا، اب میں معاہدے  کو ختم کرتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح معاہدہ کرنے کے بعد اگر کسی استاذ نے کسی بچے کو عمدا یا غلطی سے مارا تو کیا اس کی بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی۔ دوسرا یہ کہ اب جب مہتمم صاحب نے اس معاہدے کو ختم کر دیا ہے تو کیا اب اس معاہدے کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟  

وضاحت: سائل نے بتایا کہ جب یہ معاہدہ لکھوایا تو بہت سے اساتذہ نے مدرسہ میں پڑھانے سے جواب دے دیا، تاکہ ہم سے کہیں غلطی نہ ہو جائے اور بیوی کو تین طلاقیں نہ پڑ جائیں، تو اگلے ہی دن صبح مہتمم صاحب نے اساتذہ سے کہا کہ میں اس معاہدے کو ختم کرتاہوں، آپ حضرات مدرسہ نہ چھوڑیں، اس پر اساتدہ نے دوبارہ پڑھانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ بچوں کو مارنا بھی شروع کر دیا اور اب تک کئی اساتذہ بچوں کی پٹائی کر چکے ہیں، کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اب معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔سائل کا کہنا ہے کہ نہ مارنے سے متعلق قوانین بدستور باقی تھے اور معاہدہ ختم کرتے وقت بھی ان اساتذہ سے کہا گیا تھا کہ آپ نہ مارا کریں، جبکہ مہتمم کا کہنا ہے کہ نہ مرنے سے متعلق قوانین پہلے بھی لکھے ہوئے نہیں تھے، البتہ زبانی طور پر قراء کو نہ مارنے کا کہا جاتا تھا، اس واقعہ میں میں نے معاہدہ ختم کرنے کے ساتھ نہ مارنے کے قوانین بھی ختم کر دیے تھے اور اساتذہ کو ویسے سمجھایا تھا کہ نہ مارا کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب  مدرسہ کے استاذ نے یہ معاہدہ کیا کہ "میں اقرار کرتا ہوں کہ مدرسے کے قوانین کے مطابق کسی بچے کو چھڑی سے ماروں یا ہاتھ سے ماروں یا کسی بھی چیز سے ماروں تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں" تو اس صورت میں تين طلاقيں شرط کے ساتھ معلّق ہو گئیں، اس کے بعداگلے دن معاہدہ ختم کرتے وقت اگر واقعتاً مہتمم نے نہ مارنے سے متعلق قوانین کو بھی ختم کر دیا تھا تو قوانین ختم ہونے سے طلاق کا شرط کے ساتھ معلق ہونا بھی ختم ہو گیا، لہذا اس صورت میں مذکورہ استاذ کے بچوں کو مارنے سے ان کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔ البتہ اگر مہتمم نے صرف معاہدہ ختم کیا تھا اور نہ مارنے سے متعلق قوانین بدستور برقرار تھے تو اس صورت میں مذکورہ مدرسہ میں رہتے ہوئے اگر اس استاذ نے کسی بچے کو کسی بھی طریقہ سے مارا ہے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب ان میاں بیوی کے درمیان رجوع یا دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت (یادرہےکہ اگر تین طلاقیں واقع ہونےکےبعدمردوعورت اکٹھے رہے ہیں تو اس صورت میں عدت فریقین کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے کے بعد شروع ہو گی، کیونکہ یہ عدتِ طلاق نہیں، بلکہ عدتِ وطی (ہمبستری کی عدت)ہو گی، جو مفارقت کے بعد شروع ہوتی ہے)گزارنے کے بعد کسی اور شخص کے ساتھ نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھروہ اپنی مرضی سے  عورت کو طلاق دے دے یا وہ فوت ہو جائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد یہ عورت باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے، ورنہ اس سے دوبارہ نکاح کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔

البتہ اگر کسی استاذ نے ابھی تک اس مدرسہ میں رہتے ہوئے کسی بچے کو کسی بھی طریقہ سے نہیں مارا تو اس کے لیےتین طلاقوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ استاذ  اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن یا رجعی دے اور عدت کے دوران وہ بیوی سے رجوع  نہ کرے، عدت مکمل ہونے کے بعد وہ اس مدرسہ کے کسی بچے کی معمولی پٹائی کر دے تو اس سے شرط پوری ہو جائے گی اور نکاح ختم ہونے کی وجہ سے عورت پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اس کے بعد مردوعورت باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، البتہ دوبارہ نکاح کرنے کے بعد اس استاذ کو اپنی بیوی پر صرف دو طلاقیں واقع کرنے کا حق حاصل ہو گا، نیز اس کے بعد اگر یہ استاذ کسی بچے کو مارے گا تو دوبارہ اس کی بیوی کو کوئی طلاق نہیں ہو گی، کیونکہ ایک مرتبہ شرط کے پائے جانے سے شرط ختم ہو جاتی ہے۔

یاد رہے کہ مارنےسےمتعلق قوانین ختم نہ کرنے کی صورت میںمہتمم صاحب کا یہ کہنا معتبر نہیں کہ یہ ہمارے درمیان معاہدہ تھا جو ہم نے ختم کر دیا، کیونکہ اس طرح طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کے بعد اس سے رجوع یا اس معاہدے کو ختم کرنے سے شرعاً شرط ختم نہیں ہوتی، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق معلق بالشرط کام سے رجوع کرنا شرعاً معتبر نہیں، اس لیے مہتمم صاحب کے معاہدہ ختم کرنے سے مذکورہ شرط پر دستخط کرنے والے  اساتذہ کے حق میں یہ شرط ختم نہیں ہوگی، البتہ یہ شرط صرف مذکورہ مدرسہ میں رہنے کی حد تک شرعاً واجب العمل ہے، لہذا اگر کسی استاذ نے کسی بچے کی پٹائی کرنے سے پہلے اسی وقت مدرسہ چھوڑ دیا تھا یا ابھی تک کسی استاذ نے کسی بچے کو نہیں مارا اور پھر وہ کسی اور مدرسہ میں پڑھانے کے دوران  کسی بچے کو مارےتو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (کتاب الطلاق، ج:1، ص:420، ط:ایج ایم سعید) :

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 113) الناشر: دار الكتب العلمية:

هذا النوع من التمليك فيه معنى التعليق فلا يحتمل الرجوع عنه. والفسخ كسائر التعليقات المطلقة بخلاف البيع فإنه ليس فيه معنى التعليق رأسا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 240) دار احياء التراث العربي – بيروت:

" ولو قال لها طلقي نفسك فليس له أن يرجع عنه " لأن فيه معنى اليمين لأنه تعليق الطلاق بتطليقها واليمين تصرف لازم ولو قامت عن مجلسها بطل لأنه تمليك بخلاف ما إذا قال لها طلقي ضرتك لأنه توكيل وإنابة فلا يقتصر على المجلس ويقبل الرجوع.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (24/480) الناشر: دار الكتب العلمية:

 وَلَا يَصِحُّ الرُّجُوعُ عَنْ الْيَمِينِ.

الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (3/ 355) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 522) ط: سعید:

"(و) مبدؤها (في النكاح الفاسد) بعد التفريق من القاضي بينهما، ثم لو وطئها حدّ، جوهرة وغيرها، وقيده في البحر بحثا بكونه بعد العدة لعدم الحد بوطء المعتدة (أو) المتاركة أي (إظهار العزم) من الزوج (على ترك وطئها) بأن يقول بلسانه: تركتك بلا وطء ونحوه، ومنه الطلاق وإنكار النكاح لو بحضرتها وإلا لا، لا مجرد العزم لو مدخولة وإلا فيكفي تفرق الأبدان".

قال ابن عابدين: "قلت: ولم أر من صرح بمبدإ العدة في الوطء بشبهة بلا عقد. وينبغي أن يكون من آخر الوطآت عند زوال الشبهة، بأن علم أنها غير زوجته، وأنها لاتحل له إذ لا عقد هنا فلم يبق سبب للعدة سوى الوطء المذكور كما يعلم مما ذكرنا، والله أعلم"

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

12/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب