03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیدگاہ کودیگرشرعی کاموں میں استعمال کرنےکاحکم
91651وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ایک عیدگاہ ہے جو مکمل طور پر شہر کے اندر ہے۔ جہاں باقاعدہ عید کی نماز ہوتی ہے اور وقتاً فوقتاً لوگ نماز جنازہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں اور تعزیت کے لیے بھی اس جگہ کا استعمال ہوتا رہتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟

اب کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ عید گاہ کے اوپر مدرسہ کی تعمیر کر دی جائے کیونکہ پورا سال جگہ خالی پڑی رہتی ہے اور اس جگہ کو دین کے لیے استعمال کیا جائے اور عید کی نماز بھی ہوتی رہے۔ نمازیوں کو کوئی تکلیف بھی نہ ہوگی اور نہ ہی جگہ کی تنگی کا کوئی مسئلہ ہو گا۔ علاقے کی جو صورتحال ہے اور جس انداز سے مدرسہ کی تعمیر کا ارادہ ہے، اس سے آنے والے وقت میں عید کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہو گا اور نہ ہی نمازیوں کے لیے جگہ تنگ ہوگی بلکہ خراب موسم اور بارش کی صورت میں نمازیوں کے لیے سہولت ہوگی تو آیا اب یہاں دینی مدرسہ کی تعمیر کی جا سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عیدگاہ میں نمازِ جنازہ ادا کرنا جائز ہے، اسی طرح تعزیت کے لیے آنے والوں کو عیدگاہ میں بٹھانا بھی درست ہے، البتہ عبادت کے لیے وقف ہونے کی وجہ سے عیدگاہ کے احترام کا خیال رکھا جائے اور شور و شغب اور خلافِ شریعت امور سے بچا جائے۔

صورتِ مسئولہ میں عیدگاہ کے اوپر عمارت تعمیر کر کے اس میں مستقل طور پر مدرسہ قائم کرنا شرعاً درست نہیں، اگرچہ اس سے عید کی نماز قائم کرنے میں کوئی خلل واقع نہ ہوتا ہو، کیونکہ واقف نے اس جگہ کو عیدگاہ کے لیے ہی وقف کیا تھا اور اس میں دینی مدرسہ قائم کرنے کی نیت نہیں کی تھی اور عیدگاہ کے مکمل طور پر شہر کے اندر آنے کے باوجود وہاں عید کی نماز قائم کی جا رہی ہے۔البتہ عیدگاہ کی حفاظت کی غرض سے اس میں عارضی طور پر دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح :(ص: 595)

قوله: "وتكره الصلاة عليه في مسجد الجماعة" قيد بمسجد الجماعة لأنها لا تكره في مسجد أعد لها وكذا في مدرسة ومصلى عيد۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 417)

أن مصلى العيد بمنزلة المسجد في حق الصلاة بالاتفاق، وإن اختلفوا فيما عدا الصلاة؛ لأن ذلك كله جعل للصلاة ولا كذلك الفلاة.

الفتاوى الهندية :(1/ 167)

ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام والناس يأتونهم ويعزونهم۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(2/ 241)

(قوله: في غير مسجد) أما فيه فيكره كما في البحر عن المجتبى، وجزم به في شرح المنية والفتح، لكن في الظهيرية: لا بأس به لأهل الميت في البيت أو المسجد والناس يأتونهم ويعزونهم. اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(4/ 445)

على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة۔

الفتاوى الهندية: (2/ 362)

البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(4/ 384)

والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) :(4/ 356)

(قوله: والمصلى) شمل مصلى الجنازة ومصلى العيد قال بعضهم: يكون مسجدا حتى إذا مات لا يورث عنه وقال بعضهم: هذا في مصلى الجنازة، أما مصلى العيد لا يكون مسجدا مطلقا، وإنما يعطى له حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام، وإن كان منفصلا عن الصفوف وفيما سوى ذلك فليس له حكم المسجد، وقال بعضهم: يكون مسجدا حال أداء الصلاة لا غير وهو والجبانة سواء، ويجنب هذا المكان عما يجنب عنه المساجد احتياطا. اهـ. خانية وإسعاف والظاهر ترجيح الأول؛ لأنه في الخانية يقدم الأشهر۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (2/ 169)

وفي الخلاصة والخانية السنة أن يخرج الإمام إلى الجبانة، ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على أن صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري :(2/ 38)

غيرأنهم قالوا في الخياط إذا جلس فيه لمصلحته من دفع الصبيان وصيانة المسجد لابأس به للضرورة

فیصل حیات بن خان بہادر

دارلافتاء جامعۃ الرشید کراچی

12/صفرالمظفر /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب