03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھریلو جھگڑے کی بنیاد پر بیوی کو طلاق دینے کا حکم
92331طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

ایک سال پہلے میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی بہن کو کپڑے دیے تھے۔ اس پر میرے شوہر کی والدہ نے مجھے گندی گالیاں دیں۔ اگلے دن مجھے میری والدہ کے گھر چھوڑنے آئے تو میری والدہ نے میری ساس پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن ہم نے انہیں روک لیا، جبکہ میری ساس گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھیں۔

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اتنی چھوٹی سی بات پر کیا بیوی کو طلاق دینا جائز ہے یا نہیں؟ میں اس معاملے پر اپنے شوہر اور ساس سے کئی بار معافی مانگ چکی ہوں۔ میرے شوہر بیرونِ ملک جا چکے ہیں اور ہمارا چھ ماہ کا بیٹا بھی ہے۔

تنقیح: سائلہ نے بتایا  کہ شوہر نے ابھی تک طلاق نہیں دی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مباح چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض (ناپسندیدہ) چیز طلاق ہے۔ طلاق دینا صرف اسی وقت جائز ہے جب میاں بیوی دونوں کی سنجیدہ کوششوں کے باوجود نباہ کسی بھی طرح ممکن نہ رہے، اور اسی حالت میں ازدواجی تعلق کو جاری رکھنے سے دونوں کے حقوق پامال ہو رہے ہوں۔ ایسی صورت میں بیوی کو احسن طریقے سے الگ کر دینا چاہیے۔

اگر کسی سببِ شرعی کے علاوہ شوہر بیوی کو طلاق دے رہا ہے تو یہ نعمت کی بےقدری ہے اور اپنی بیوی، اس کے گھر والوں اور اس کی اولاد کو اذیت دینا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: ’’عورتوں کے بارے میں میری وصیت قبول کرو، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ مزید یہ کہ شوہر کی اجازت کے بغیر چھوٹی موٹی چیز کسی کو دینا، جس کا عموماً گھروں میں رواج ہوتا ہے، کوئی ایسی بات نہیں ہے جو طلاق کا سبب بن سکے۔

نیز  باہمی تعلقات کو معمول پر لانے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور معاملات کو سلجھانے کی حتی المقدور کوشش کرے۔ سابقہ رنجشوں کو بھلا کر نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہیے۔ دونوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور عفو و درگزر کے ساتھ زندگی گزاریں۔ نیز بیوی کو چاہیے کہ آئندہ کے لیے شوہر سے پوچھ کر ہر وہ کام کرے جس پر شوہر ناراض ہوتا ہواور شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور بیوی کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے درگزر کریں۔ اگر بیوی میں کوئی عیب نظر آئے تو صرف اسی پر نظر رکھنے کے بجائے اس کی دوسری خوبیوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خوبیاں رکھی ہیں۔

دوسری طرف، ہمیشہ کیلئے تعلق ختم کردینے کی صورت میں آپ کے بیٹے کی تربیت بھی متاثر ہوگی اور آپ کے معصوم بچے کو جو نقصان پہنچے گا، اس کی تلافی شاید برسوں تک بھی ممکن نہ ہو۔ ہر باپ اپنے بیٹے کے لیے بہترین مستقبل چاہتا ہے۔ اگر صلح اور اصلاح کی کوئی بھی صورت باقی ہے تو اپنے بیٹے کی خاطر ایک بار پھر ضرور کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آج آپ کا صبر، برداشت اور درگزر، کل آپ کے بچے کی خوشیوں، ذہنی سکون اور روشن مستقبل کی بنیاد بن جائے۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 228):

وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق.»

«عمدة القاري شرح صحيح البخاري» (20/ 226):

«والطلاق أبغض المباحات وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من أبغض الحلال إلى الله الطلاق، وقال: تزوجوا ولا تطلقوا فإن الطلاق يهتز منه العرش، وقال: لا تطلقوا النساء إلا من ريبة فإن الله لا يحب الذواقين ولا يحب الذواقات، وقال: ما حلف بالطلاق ولا استحلف به إلا منافق.»

«صحيح البخاري» (3/ 1212):

«قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (استوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء).»

  عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

   17  /ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب