03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقدِ مضاربت میں مضاربِ اول کی عملی ذمہ داری اور ذیلی مضاربت کا حکم
92175مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سابقہ فتویٰ کی روشنی میں درج ذیل جزئیے کی وضاحت مطلوب ہے:

۱۔ اگر میں رب المال (سرمایہ کار، مثلاً کریگ) کا مضاربِ اول ہوں اور اس کی اجازت سے مال آگے فیلڈ مینیجر کو مضاربت پر دینا چاہوں، تو کیا سرمایہ کار کے ساتھ عقد کرتے وقت یہ کہنا درست ہے کہ بینکنگ، خریداری اور دیگر انتظامی امور مجھ پر عقداً لازم نہیں ہوں گے، البتہ میں اپنی رضامندی سے بطورِ تعاون یہ کام کرسکتا ہوں؟

۲۔ اگر مذکورہ عملی امور کو مجھ پر عقداً لازم اور مشروط کیا جائے، تو کیا اس سے ذیلی مضاربت کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا؟

۳۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں سے شرعاً کون سی صورت اختیار کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(۱) صورتِ مسئولہ میں صورتِ اول شرعاً درست ہے؛ یعنی رب المال آپ کو مال آگے مضاربت پر دینے کی اجازت دے، جبکہ بینکنگ، خریداری اور دیگر انتظامی امور آپ پر عقداً لازم نہ ہوں۔ بعد میں آپ اپنی رضامندی سے یہ کام بطورِ تعاون انجام دے سکتے ہیں۔

(۲) صورتِ دوم درست نہیں؛ کیونکہ اگر مضاربِ اول کا ذیلی مضارب کے ساتھ خود عملی کام کرنا عقد کی شرط قرار پائے تو یہ ذیلی مضاربت میں تخلیہ کے منافی ہوگا، جس سے ذیلی مضاربت فاسد ہوجائے گی۔

لہٰذا عقدِ مضاربت میں مذکورہ عملی امور کو عقدی ذمہ داری نہ بنایا جائے، بلکہ انہیں رضاکارانہ تعاون کے طور پر رکھا جائے۔

حوالہ جات

«البناية شرح الهداية» (10/ 52):

«ولا يضارب إلا أن يأذن له رب المال أو يقول له: اعمل برأيك لأن الشيء لا يتضمن مثله لتساويهما في القوة فلا بد من التنصيص عليه، أو التفويض المطلق إليه،»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 85):

«لو شرط في المضاربة عمل رب المال، فسدت المضاربة سواء عمل رب المال معه أو لم يعمل؛ لأن شرط عمله معه شرط بقاء يده على المال، وإنه شرط فاسد.

ولو سلم رأس المال إلى رب المال ولم يشترط عمله، ثم استعان به على العمل أو دفع إليه المال بضاعة جاز؛ لأن الاستعانة لا توجب خروج المال عن يده، وسواء كان المالك عاقدا أو غير عاقد لا بد من زوال يد رب المال عن ماله؛ لتصح المضاربة»

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (5/ 56):

«اعلم أن التسليم إلى المضارب شرط صحة المضاربة، وشرط عمل رب المال في عقد المضاربة يفسدها؛ لأن المال أمانة فلا يتم إلا بعد تسليم رأس المال إلى المضارب كالوديعة وإذا شرط عمل رب المال معه لا يتحقق التسليم؛ لأن يده تبقى على المحل فيمنع من تمام التسليم. غاية وكتب ما نصه قال شيخ الإسلام علاء الدين الإسبيجابي في شرح الكافي وإذا دفع الرجل إلى الرجل مالا مضاربة بالنصف فرده المضارب على رب المال وأمره أن يبيع ويشتري على المضاربة ففعل وربح فهو جائز على المضاربة والربح على ما اشترطا؛ لأنه لم يوجد صريح النقض ولا دلالته؛ لأنه صار مستعينا به على العمل ومتى وقع العمل من رب المال إعانة لا يجعل هذا استردادا فلا تنتقض به اليد الثابتة للمضارب بخلاف ما إذا شرط عمل رب المال في حال العقد؛ لأن يده مانعة من تمام التسليم والتسليم شرط صحة المضاربة»

عزیر احمد

دار الافتاء  جامعہ الرشید کراچی

11/ربیع الثانی/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر احمد بن رضام اکبر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب