| 92444 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میرا تعلق گلگت سے ہے،میری شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہیں، شروع میں ایک ماہ گھر میں رہنے کے بعد میں ڈیوٹی پر کراچی آگیا، اس کے بعد اگست میں میں نے گھر والوں سے بات کی کہ میری بیوی کو میرے پاس کراچی بھیج دیں تو گھروالوں نے پہلے کہا کہ ابھی مکئی کچی ہے ، ستمبر ختم ہونے کے بعد لے جاؤ، میں نے ستمبر ختم ہونے پر بات کی تو کہا پندرہ اکتوبر کو لے جاؤ، اب میں نے پندرہ اکتوبر کو لانے کی بات کی تو بھائی نے کہا تیس اکتوبر کو لے جاؤ، اس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے صرف ڈرانے کے لیے بھائی سے کہا اگر آپ اور والدہ میری بیوی سے راضی نہیں ہیں تو میں اس کوآزاد کرتا ہوں، آپ لوگ مشورہ کر لو۔ اس کے بعد بات ختم ہو گئی۔میرا مقصود ان کے سامنے یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر آپ لوگ میری بیوی سے راضی نہیں ہیں تو میں آزاد کر دوں گا، طلاق دینا میرا مقصد نہیں تھا، بلکہ صرف ڈرانا مقصود تھا کہ یہ جلدی میرے پاس بھیج دیں، اس پر میں حلفیہ بیان دے سکتا ہوں، اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً آپ کا مقصود فوری طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ محض ڈرانا اور گھر والوں پر یہ ظاہر کرنا تھا کہ ان کی عدمِ رضامندی کی صورت میں آپ مستقبل میں طلاق دے دیں گے،یعنی مقصود کسی شرط پر خود بخود طلاق واقع ہونا نہیں تھا، بلکہ آئندہ طلاق دینے کی محض وعید اور دھمکی تھی تو شرعاً اس جملے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ البتہ آئندہ کے لیے اس طرح کے حساس الفاظ (میں آزاد کرتا ہوں وغیرہ) استعمال کرنے سے سخت احتیاط کریں، کیونکہ بسا اوقات ایسے الفاظ کہنے سے فوری طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ربیع الثانی 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


