03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
30 سال تک مسلسل قبضے و رہائش کی وجہ سے زمین کا شرعی حکم
92241غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

ہمارے علاقے میں نوابی دور میں نواب کے پاس ریاست کی زمینوں کا اختیار ہوتا تھا، نواب اپنی صوابدید کے مطابق لوگوں کو زمینیں حوالے کرتے تھے۔ ہمارے علاقے کے ایک خان کو بھی نواب نے کچھ زمین دی تھی۔ چنانچہ یہ زمین خان کے قبضے، انتظام اور تصرف میں رہی۔ بعد ازاں 1969ء میں ریاست دیر کے نوابی دور کا خاتمہ ہوگیا اور ریاست دیر پاکستان کا حصہ بن گئی، لیکن مذکوره علاقے میں خان کے علاوہ مختلف اقوام اور خاندان بھی آباد تھے۔ جب کبھی علاقے کی زمین یا کسی دوسرے معاملے پر کوئی شخص دعوی کرتا یا مقدمہ پیش آتا تو علاقے کے دیگر خاندان بھی خان کے ساتھ مل کر مقدمہ لڑتے اور اس کا ساتھ دیتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ اجتماعی طور پر پہاڑوں سے درخت اور لکڑی لاتے اور اپنی ضروریات میں استعمال کرتے تھے۔ اس وجہ سے علاقے کے لوگوں اور خان کے درمیان ایک طویل عرصے سےباہمی تعاون اور تعلق قائم تھا. بعد میں انہی خاندانوں میں سے ایک خاندان نے خان کی اجازت کے بغیر خان کے زیر اختیار زمین میں سے کچھ جگہ پر قبضہ کرکے وہاں اپنا گھر تعمیر کرلیا، اب تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں اور وہ خاندان مسلسل اسی گھر میں آباد ہے۔

اب خان کا دعویٰ ہے کہ یہ جگہ میری ملکیت ہے، کیونکہ یہ زمین مجھے نواب کی طرف سے دی گئی تھی، لہٰذا اس خاندان کا میری اجازت کے بغیر اس زمین پر قبضہ کرکے گھر بنانا اور تقریباً 30 سال سے وہاں رہنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،لہٰذا محترم مفتی صاحب سے اس مسئلے کا باریک بینی سے شرعی حکم مطلوب ہے کہ اگر مذکورہ زمین ابتدا میں نواب کی طرف سے خان کو دی گئی تھی، لیکن بعد میں ایک دوسرے خاندان نے خان کی اجازت کے بغیر اس زمین پر قبضہ کرکے گھر تعمیر کرلیا اور تقریباً 30 سال سے مسلسل وہاں آباد ہے، تو کیا صرف بدستور خان ہی کی ملکیت شمار گی؟یا 30 سال گزر جانے اور مسلسل قبضے و رہائش کی وجہ سے یہ زمین اس دوسرے خاندان کی ملکیت شمار ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی   صورتِ حال کے مطابق اگر واقعتاً  نواب نے مذکورہ خان صاحب کو یہ زمین مالک بنا کر دی تھی تو شرعی اعتبار سے  وہ اس کی ملکیت ہو چکی تھی، اس کے بعد دوسرے خاندان کا اس زمین پر خان صاحب کی اجازت کے بغیر گھر بنانا  اور اس  میں رہائش اختیار کرنا شرعا جائز نہیں تھا اور اب  تیس سال گزرنے پر بھی وہ زمین خان صاحب  کی ہی ملکیت ہے،  زمانہ گزرنے سے شرعاً ملکیت تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ  شریعت کی نظر میں وہ چیز اصل مالک کی ہی ملکیت  میں شمار ہوتی  ہے، لہذا  صورتِ مسئولہ میں خان صاحب کا  اس زمین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرنا درست ہے اور دوسرے  خاندان کی ذمہ داری ہے کہ وہ  اس زمین سے اپنا قبضہ ختم کر کے  اس  کو خان صاحب  کے حوالہ کریں، ورنہ آخرت میں اس کا حساب دینا ہو گا ، کیونکہ کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرنے پر  احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

یاد رہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ پندرہ سال گزرنے پر کسی  کی  شخصی زمین کے بارے میں عدالت دعوی نہیں سنے گی  ، یہ قول صرف انتظامی مصلحت کے پیشِ نظر ہے ، تاکہ اگر کسی کا کسی کے ذمہ کوئی حق ہو تو وہ پندرہ سال کی مدت کے دوران عدالت میں دعوی کرکے اپنا حق  وصول کر لے،کیونکہ  اتنی مدت گزرنے پر  عدالت کے لیے پرانے اختلافی  اور جھگڑوں کے معاملات کو حل کرنا مشکل ہوتا ہے،  لیکن اس کا یہ  مطلب نہیں کہ   اگر کسی نے اس مدت کے دوران اپنے حق کا دعوی نہ کیا تو شرعاً اس کا حقِ ملکیت ختم ہو جائے گااور قابض شخص کا ثابت  ہو جائےگا، کیونکہ ملکیت کے شرعی اسباب میں سے مدت  کے گزر جانے کو شریعت نے تسلیم نہیں کیا، ورنہ تو کوئی بھی شخص کسی کی زمین پر پندرہ سال قبضہ کر کے اپنی ملکیت کا دعوی کر دیتا، حالانکہ شریعت اس کی قطعا اجازت  نہیں دیتی۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 27) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.

(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 182) الناشر: دار الفكر-بيروت:

فإن الأصل بقاء الملكية واليد أقوى دليل عليها، فلا تزول إلا بحجة ثابتة وإلا لزم أن يقال مثل ذلك في كل مملوك بظاهر اليد، مع أنه لا يقول به أحد.

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 188) دار الكتب العلمية، بيروت:

الحق لا يسقط بتقادم الزمان.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 337) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1674) لا يسقط الحق بتقادم الزمن بناء عليه إذا أقر واعترف المدعى عليه صراحة في حضور القاضي بأن للمدعي عنده حقا في الحال في دعوى وجد فيها مرور الزمن بالوجه الذي ادعاه المدعي فلا يعتبر مرور الزمن ويحكم وبموجب إقرار المدعى عليه وأما إذا لم يقر المدعى عليه في حضور القاضي وادعى المدعي بكونه أقر في محل آخر فكما لا تسمع دعواه الأصلية كذلك لا تسمع دعوى الإقرار. ولكن الإقرار الذي ادعي أنه كان قد ربط بسند حاو لخط المدعى عليه المعروف سابقا أو ختمه ولم يوجد مرور الزمن من تاريخ السند إلى وقت الدعوى تسمع دعوى الإقرار على هذه الصورة.

الموسوعة الفقهية الكويتية (13/ 118) دارالسلاسل – الكويت                                                                                                       

وعدم سماع الدعوى بعد المدة المحددة ليس مبنيا على سقوط الحق في ذاته وإنما هو مجرد منع القضاة عن سماع الدعوى مع بقاء الحق لصاحبه حتى لو أقر الخصم يلزمه، ولو كان التقادم مسقطا للحق لم يلزمه.

 محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

18/ربیع الثانی 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب