| 91634 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والد کا انتقال تقریباً 38 سال قبل ہوا تھااور والدہ کا انتقال 8 سال پہلے ہوا۔ والدہ کی ملکیت میں ایک گھر تھا، جسے انہوں نے اپنے زیورات فروخت کرکے خریدا تھا۔ بعد میں اس گھر کی تعمیر والد صاحب کی آمدنی اور والدہ کی اپنی جمع شدہ رقم سے ہوئی۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کی پنشن سے جو رقم والدہ کو ملی، اس کا ایک حصہ بھی گھر کی مزید تعمیر پر خرچ کیا گیا۔ والدہ اس گھر کو اپنی ذاتی ملکیت قرار دیتی تھیں، اسی لیے اسے والد صاحب کے ترکہ میں شامل کرکے تقسیم نہیں کیا گیا۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت 9 اولاد میں سے 6 بالغ اور 3 نابالغ تھے۔اس کا کیاحکم ہے؟
نوٹ:تنقیح پر سائل سے معلوم ہوا کہ یہ بات معلوم نہیں کہ والد کی تعمیر پر خرچ کردہ رقم کس نیت سے تھی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پر جو چیز کسی شخص نے اپنے خالص مال سے خریدی ہو، وہ اسی کی ملکیت ہوتی ہے۔ لہٰذا والدہ نے اپنے زیورات فروخت کرکے جو زمین خریدی، وہ ان کی ذاتی ملکیت تھی۔ نیز والد کی وفات کے بعد بیوہ کی حیثیت سے ملنے والی فیملی پنشن متعلقہ ادارے کی طرف سے والدہ کے لیے عطیہ ہے، مرحوم کے ترکہ کا حصہ نہیں؛ اس لیے اس پنشن سے ہونے والی تعمیر بھی والدہ ہی کی ملکیت شمار ہوگی۔
جہاں تک والد صاحب کی اپنی آمدنی سے کی گئی تعمیر کی بات ہے، تو چونکہ ان کی نیت صراحتاً معلوم نہیں، اس لیے عرف اور رائج نظام کو معتبر قرار دیا جائے گا۔ عرفاً میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے جو مال یا تعمیر پر خرچ کرتے ہیں، عموما وہ تبرع و احسان کے طور پر ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ والد صاحب نے بھی اپنی زندگی میں اس تعمیر پر کبھی اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اسے والدہ کی ملکیت ہی تسلیم کیے رکھا، لہٰذا یہ تعمیر بھی ان کی طرف سے بطورِ تبرع و احسان شمار ہوگی، اور زمین کے تابع ہونے کی وجہ سے اس کی ملکیت بھی والدہ ہی کو حاصل ہوگی۔لہٰذا مذکورہ گھر مکمل طور پر والدہ کی ذاتی ملکیت تھا، والد صاحب کے ترکہ کا حصہ نہیں ۔
حوالہ جات
(رد المحتار: 5/ 688)
إذَا دَفَعَ لِابْنِهِ مَالًا فَتَصَرَّفَ فِيهِ الِابْنُ يَكُونُ لِلْأَبِ إلَّا إذَا دَلَّتْ دَلَالَةُ التَّمْلِيكِ... التَّلَفُّظَ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ لَا يُشْتَرَطُ، بَلْ تَكْفِي الْقَرَائِنُ الدَّالَّةُ عَلَى التَّمْلِيكِ.
(البحر الرائق :8/553)
قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمر لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه ويكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك قال رحمه الله (ولو عمرها لها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) أي عمرها لها بغير إذنها كان لها البناء وهو متطوع بالبناء فلا يكون له الرجوع عليها به؛ لأنه لا ولاية له في إيجاب ذلك عليها.
فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
14/صفر المظفر/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


