| 91444 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا کا انتقال آج سے تین سال پہلے ہوا تھا، لیکن ابھی تک وراثت تقسیم نہیں ہوئی اور میرے والد سمیت چار بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ میرے والد کی پہلی بیوی سے ایک بیٹی بھی ہے، جسے میرے دادا دادی نے اپنے پاس رکھا اور اس کی پرورش کی۔دادا کا ایک ذاتی گھر تھا۔ میرے والد شادی کے کچھ سال بعد الگ ہوگئے تھے اور ایک چچا بھی الگ ہوگئے تھے، جبکہ باقی دو چچا دادا کے بڑھاپے میں گھر کے تمام معاملات سنبھالتے رہے۔ سن 2020 میں انہوں نے دادا کے اس گھر کو گرا کر دو حصوں میں تعمیر کیا اور دونوں اسی میں رہنے لگے۔
بعد میں بڑے چچا نے ایک دوسرا گھر خریدا، اسے بھی تعمیر کروایا اور سب لوگ وہاں منتقل ہوگئے، جبکہ دادا والا گھر فروخت کردیا گیا۔ نئے گھر میں منتقل ہونے کے چند ماہ بعد دادا کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد میری سوتیلی بہن کی شادی ہوئی، پھر نئے گھر کا آدھا حصہ فروخت کردیا گیا، اور بعد میں میری پھوپھی کی بھی شادی ہوگئی۔ اس وقت اس گھر کے باقی حصے میں دونوں چچا اپنے اہلِ خانہ اور میری دادی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
1ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ورثاء میں کون سا گھرتقسیم کیا جائے گا؟ کیا وہ رقم تقسیم کی جائے گی جو دادا کے ذاتی گھر کو بیچنے سے حاصل ہوئی تھی ؟ یا وہ گھر تقسیم کیا جائے گا جس میں دادا کا انتقال ہوا تھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ دادا کے انتقال کے وقت جو چیز ان کی ملکیت میں تھی، وہی ان کا "ترکہ" کہلائے گی۔ سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق دادا کا ذاتی گھر ان کی زندگی میں فروخت کر دیا گیا تھا۔ اب صورتِ حال درج ذیل دو طرح کی ہو سکتی ہے:
اگر وہ گھر فروخت کر کے اس کی رقم سے نیا گھر خریدا گیا، تو اس نئے گھر میں دادا کا حصہ (قدیم گھر کی قیمت کے بقدر) ان کا ترکہ شمار ہوگااور ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
اگر چچا نے نیا گھر اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھا، اور دادا کے پرانے گھر کی فروختگی سے حاصل ہونے والی رقم الگ موجود ہے یا وہ رقم کسی دوسری جگہ (مثلاً کسی تعمیر یا دوسری جائیداد) میں خرچ کی گئی ہے، تو وہ رقم یا اس سے خریدی گئی چیز شرعاً دادا کے ترکے کا حصہ شمار ہوگی، جس میں تمام شرعی ورثاء کا حق ہے۔
چونکہ ابھی تک میراث تقسیم نہیں ہوئی، اس لیے دادا کی ملکیت والی رقم یا جائیداد کی موجودہ مالیت (تقسیم کے وقت کی قیمت) تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
( البحر الرائق، ابن نجیم: 8/ 487)
أَصْلُهُ أَنَّ التَّرِكَةَ قَبْلَ الْقِسْمَةِ مُبْقَاةٌ عَلَى حُكْمِ الْمَيِّتِ... وَلَوْ أَوْصَى بِثُلُثِ مَالِهِ لِفُلَانٍ وَلَهُ مَالٌ فَهَلَكَ ذَلِكَ الْمَالُ أَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، ثُمَّ اكْتَسَبَ مَالًا فَلَهُ ثُلُثُ مَالِهِ يَوْمَ يَمُوتُ.
(ھدایۃ:4/416 )
وإذا کان أرض و بناء فعن أبی یوسف أنہ یقسم کل ذٰلک علی اعتبار القیمۃ لأنہ لایمکن اعتبار المعادلۃ إلا بالتقویم.
فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
10/صفر المظفر/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


