03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر شرعی تقسیمِ جائیداد پر وارثوں سے دستخط لینے کا حکم
91637میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب!جس بھائی نے یہ گھر80لاکھ روپےمیں خریدا ہے، وہ اب اسے اپنے نام منتقل کروانے کے لیے تمام بہن بھائیوں کے دستخط چاہتا ہے۔ کیا ایسے کاغذات پر دستخط کرنا شرعاً جائز ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کاغذات پر دستخط کرنے کا مقصد اس غیر شرعی تقسیم کو قانونی حیثیت دینا ہو جس سے والدہ رجوع کر چکی تھیں یا جس میں کسی وارث، خصوصاً بیٹیوں، کا شرعی حق ضائع ہوتا ہو، تو ایسے کاغذات پر دستخط کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ ظلم اور حق تلفی میں تعاون ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانونِ وراثت کو جان بوجھ کر تبدیل کرنا یا کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا سخت  ترین گناہ ہے۔ البتہ اگر کسی نے لاعلمی کی بنا پر ایسا کیا ہو تو شرعی حکم معلوم ہونے کے بعد اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور وراثت کی درست تقسیم کی طرف رجوع کرے۔

حوالہ جات

(مشكاة المصابيح، 1/254)

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

 (مشكاة المصابيح5 /2040)

" وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه. "

(يوم القيامة) قال الطيبي رحمه الله: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة

فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها اھ.

 فداءا لرحمن بن ضیاءا لرحمن

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

14/صفر المظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فداءالرحمن بن ضیاء الرحمن

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب