03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حق مہر کے عوض زمین دینے اور اس کی ملکیت کا شرعی حکم
92576نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال کا پس منظر محمد رمضان نے شادی کی زینب بی بی سے1963 زینب بی بی کا نکاح ہوا نکاح نامے پر5 روپے حق مہر لکھا ہوا ہے 1964 میں رخصتی سے پہلے محمد رمضان سے اسکی ساری زمین 20 کنال 2 مرلے زینب بی بی کے نام

1963ء میں زینب بی بی کا نکاح ہوا۔ نکاح نامے میں پانچ روپے حق مہر درج تھا۔ 1964ء میں رخصتی سے قبل محمد رمضان نے اپنی تمام زمین، جس کا رقبہ 20 کنال 2 مرلے تھا، حق مہر کے عوض زینب بی بی کے نام تملیک نامہ کر دیا۔ حق مہر میں دی گئی زمین کی رجسٹری کا ثبوت ابھی تک محافظ خانے میں موجود ہے، یعنی یہ سرکاری ریکارڈ میں تاحال موجود ہے۔

اس کے بعد 1968ء میں زینب بی بی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے، جن میں ایک کا نام ارشاد احمد اور دوسری کا نام ساجدہ بی بی ہے۔

1985ء میں محمد رمضان نے اپنے والد کی وصیت کے مطابق، خدمت کے عوض، ایک کنال زمین اپنے بڑے بھائی عمر وڈہ کے نام کر دی، جبکہ باقی 19 کنال 2 مرلے زمین بچی۔

محمد رمضان نے 1969ء میں غلام فاطمہ سے دوسری شادی کی۔ غلام فاطمہ کے نکاح نامے میں 3,500 روپے حق مہر مقرر کیا گیا: 1,000 روپے کے عوض چار کنال زمین اور 2,500 روپے کے عوض زیورات طلائی، جن کا وزن اُس وقت کی قیمت کے حساب سے 14 تولے مقرر ہوا۔ اس کی تفصیل نکاح نامے میں بھی درج ہے۔ چودہ تولے سونے کے زیورات ادا کر دیے گئے، لیکن چار کنال زمین غلام فاطمہ کو نہیں دی گئی۔ یہ زیورات 1969ء سے غلام فاطمہ کے پاس رہے۔

1987ء میں محمد رمضان نے دس کنال زمین خریدی، جس کی قیمت غلام فاطمہ کے حق مہر میں مقرر کردہ 14 تولے سونے کے زیورات فروخت کرکے ادا کی گئی۔ اس موقع پر وعدہ کیا گیا کہ اگر غلام فاطمہ زیورات دے دیں تو دس کنال زمین ان کے نام منتقل کر دی جائے گی، لیکن محمد رمضان نے زیورات لینے کے بعد مذکورہ زمین غلام فاطمہ کے نام منتقل کرنے کے بجائے اپنے نام رجسٹرڈ کروا لی۔ اس معاملے میں گواہان بھی موجود ہیں، جو اس بات کی شہادت دیتے ہیں۔ اس طرح محمد رمضان کے نام کل 29 کنال 2 مرلے زمین ہو گئی۔

غلام فاطمہ کے بطن سے سات بچے پیدا ہوئے، جن کے نام محمد کاشف، محمد آصف، محمد یوسف، محمد ناصر، سمیہ بی بی، نظہت بی بی اور فوزیہ بی بی ہیں۔

تقریباً 2007ء میں محمد رمضان نے اپنی دوسری بیوی غلام فاطمہ کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد غلام فاطمہ نے اپنے حق مہر کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں ان کے حق مہر کے دعوے میں ڈگری جاری ہو گئی۔ یعنی شوہر کے خلاف حق مہر میں درج چار کنال زمین اور 14 تولے سونے کے زیورات کی ادائیگی کے متعلق عدالتی فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا۔

محمد رمضان نے مذکورہ فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی، لیکن اعلیٰ عدالت نے اسے خارج کر دیا۔ غلام فاطمہ نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ڈگری کے اجرا کی درخواست بھی عدالت میں پیش کی، لیکن بعد ازاں کسی وجہ سے اس کی پیروی کرنا چھوڑ دی۔ اس کے بعد 2013ء میں غلام فاطمہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ محمد رمضان 2025ء میں فوت ہوئے۔

زینب بی بی کے نام زمین منتقل نہ ہو سکی، حالانکہ اسے زینب بی بی کے نام منتقل کرنا محمد رمضان کے ذمے تھا، اور اس بات کا ذکر رجسٹری میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح غلام فاطمہ کے نام بھی زمین منتقل نہیں کی گئی، بلکہ محمد رمضان اپنی زندگی میں ہی پوری 29 کنال 3 مرلے زمین پر خود قابض، مالک اور متصرف رہے۔

زینب بی بی کے بیٹے ارشاد احمد پوری زندگی اپنے والد محمد رمضان سے اپنی والدہ کی زمین کا مطالبہ دبے الفاظ میں کرتے رہے، لیکن محمد رمضان ان کا مطالبہ رد کرتے رہے۔ آخرکار محمد رمضان کی وفات کے فوراً بعد ارشاد احمد نے تملیک نامے/رجسٹری کے انتقال کے لیے درخواست دائر کر دی۔ جب غلام فاطمہ کی اولاد کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے بھی اپنی والدہ کے حق مہر کے حصول کے لیے اسی ڈگری کے اجرا کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی غرض سے عدالت میں درخواست دائر کر دی۔

اب محمد رمضان کی کل جائیداد 29 کنال 2 مرلے ہے۔ ان کے ترکے میں اس کے علاوہ نہ کوئی سونا ہے اور نہ کوئی دوسری چیز؛ بلکہ صرف 29 کنال 2 مرلے زمین موجود ہے۔

2025ء میں محمد رمضان کا انتقال ہو گیا۔ اب ان کی دوسری بیوی کی اولاد یہ چاہتی ہے کہ وراثت تمام ورثاء میں برابر تقسیم کی جائے اور ہر ایک کو برابر حصہ دیا جائے، جبکہ زینب بی بی کے ورثاء کا مطالبہ ہے کہ 20 کنال 2 مرلے زمین، جو زینب بی بی کے نام حق مہر کے عوض تملیک نامے کے ذریعے دی گئی تھی، ان کے نام منتقل کی جائے۔ باقی 9 کنال زمین میں سے غلام فاطمہ کے حق مہر میں مقرر کردہ چار کنال زمین، جو ان کے نکاح نامے میں درج ہے، انہیں دی جائے، اور باقی زمین محمد رمضان کے تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے۔

زینب بی بی کے ورثاء کے اس مطالبے کے جواب میں غلام فاطمہ کے ورثاء بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ محمد رمضان کی جائیداد میں سے غلام فاطمہ کا حق مہر، جس کے بارے میں عدالتی ڈگری جاری ہو چکی ہے، یعنی 14 تولے سونے کے زیورات اور چار کنال زمین، منہا کرکے باقی جائیداد تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس جائیداد کی تقسیم کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟

تنقیح: سائل کی وضاحت کے مطابق، مہر تو 5 روپے مقرر ہوا تھا، لیکن رخصتی کے وقت دونوں کی رضامندی سے اس بات پر معاہدہ ہوا کہ محمد رمضان زینب بی بی کو حق مہر کے عوض 20 کنال 2 مرلے زمین دے گا، جبکہ محمد رمضان کے پاس صرف یہی ایک زمین تھی۔ اس زمین کی رجسٹری محمد رمضان نے ان الفاظ میں کی تھی: ’’داخل خارج رقبہ منتقل مسماۃ زینب خاتون کے نام کرانا میرا ذمہ ہوگا۔‘‘

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب شوہر حق مہر مقرر کر دیتا ہے تو وہ اس کے ذمے دین (قرض) بن جاتا ہے۔ بعد ازاں باہمی رضامندی سے حق مہر کے عوض زمین دینے پر اتفاق کرنا ایک طرح سے خرید و فروخت کا معاہدہ قرار پاتا ہے۔ گویا شوہر نے اپنے ذمے واجب الاداء دین (حق مہر) کے عوض اپنی بیوی کو زمین فروخت کر دی، لہٰذا بیوی اس زمین کی مالک بن گئی۔

1968ء میں جب زینب بی بی کا انتقال ہوا تو یہ زمین ان کے ترکے میں شامل ہو کر اس وقت موجود ورثاء میں میراث کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے تھی۔ چونکہ بیوی کی وفات کی صورت میں، اگر اس کی اولاد موجود ہو، تو شوہر کو بیوی کے ترکے میں سے چوتھائی حصہ ملتا ہے، لہٰذا شوہر کو زینب بی بی کے ترکے میں شامل 20 کنال 2 مرلے زمین کا ایک چوتھائی حصہ ملے گا۔ اس طرح شوہر صرف اس زمین کے ایک چوتھائی حصے کا مالک ہوگا۔

اس کے بعد جب شوہر نے دوسری شادی کی اور اس کا حق مہر چار کنال زمین اور 14 تولے سونے کے زیورات مقرر کیا گیا تو اس کی ادائیگی بھی شوہر کے حصے، یعنی 20 کنال 2 مرلے زمین کے ایک چوتھائی حصے سے کی جائے گی۔

جہاں تک شوہر کی جانب سے بیوی کے 14 تولے سونے کے زیورات کے ذریعے 10 کنال زمین خریدنے کا تعلق ہے تو یہ زیورات شوہر نے اپنی بیوی سے بطور قرض لیے تھے۔ لہٰذا شوہر پر لازم تھا کہ وہ اپنی بیوی کو 14 تولے سونے کے زیورات واپس لوٹاتا۔ چنانچہ ان زیورات کے ذریعے محمد رمضان نے جو 10 کنال زمین خریدی، اس کا مالک وہ خود بنا تھا۔

اب محمد رمضان کے ترکے میں 20 کنال 2 مرلے زمین کا ایک چوتھائی حصہ اور 10 کنال زمین، جو اس نے غلام فاطمہ کے زیورات بطور قرض لے کر خریدی تھی، شامل ہیں۔ لہٰذا اس ترکے میں سے پہلے غلام فاطمہ کا حق مہر، یعنی چار کنال زمین اور 14 تولے سونے کے زیورات یا ان کی موجودہ قیمت ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد جو جائیداد باقی بچے گی، اسے محمد رمضان کے ورثاء میں میراث کے اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔

نیز، چونکہ محمد رمضان 20 کنال 2 مرلے زمین کا مکمل مالک نہیں تھا، لہٰذا اس کا اپنے والد کی وصیت کے مطابق اپنے بھائی کو ایک کنال زمین ہبہ کرنا بھی درست نہیں تھا۔البتہ اگر ورثاء سارے بالغ ہوں اور  اس بات پر راضی ہوں کہ محمد رمضان کے بچے ہوئے ترکہ سےاس کی دوسری بیوی کا حق مہر ادا کرنے کے بعد ، اس کے بھائی عمر وڈہ کو ایک کنال زمین دے دیں   تو وہ دے سکتے ہیں ۔

حوالہ جات

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 280):

«ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين.ويجوز من المديون لعدم الحاجة إلى التسليم»

«مجلة مجمع الفقه الإسلامي» (6/ 960 بترقيم الشاملة آليا):

«لا يجوز بيع الدَّين إلا ممن عليه الدَّيْن في المذاهب الثلاثة الحنفية والشافعية والمالكية»

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ …. وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... }             [النساء

قال في كنز الدقائق : (ص:696, المكتبة الشاملة)

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." 

  عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

30/ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب