03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قادیانی و اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور متعلقہ تجارتی مسائل
92243جائز و ناجائزامور کا بیانکفار کے ساتھ معاملات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں؟

کیا قادیانی مصنوعات کا گھروں میں استعمال درست ہے؟ اگر  وہ اشیاء گھروں میں موجود ہوں تو ان اشیاء کا کیا کیا جائے؟ مثلاً شیزان، پیپسی کولا، لیور برادرز کی ہے۔ پیپسی کی معنی ’پے ایچ پینی ٹو سیو اسرائیل‘ ہے۔ اس کمپنی میں کام کیا جائے؟  حالانکہ بے روزگاری عام ہے، اس کا متبادل کیا ہے؟ اضطراری حالت میں فی الوقت کام کرنا درست ہے؟

 ٹویو ناس کلاس، فونکس بیٹری چارجز   اور کنور لاہور کی کمپنی جو  چکن کیوبز بناتی ہے، ان کا استعمال کیسا ہے؟ اجینو موتو چائنا کا بنا ہوتا ہے، گھروں میں کھانے کی لذت بڑھانے کے لیے عام استعمال ہے۔ لیس پاپڑ شوق سے کھائے جاتے ہیں جبکہ یہ لیور برادرز کی پروڈکٹ ہے۔

 اسرائیل کی مصنوعات معیاری اور پائیدار ہوتی ہیں جبکہ پاکستانی مصنوعات غیر معیاری، ناپائیداراور سب سٹینڈرڈ ہوتی ہیں۔ اس صورت میں کیا کیا جائے؟

 برائے کرم اگر  قادیانی اور اسرائیلی پروڈکٹس کی فہرست جاری ہو جائے تو عامۃ الناس اور خواص نہیں،بلکہ  عام سطح پر بالخصوص امت مسلمہ ہی ان کے مصنوعات کا بائیکاٹ کر دے تو ان کی معیشت بیٹھ سکتی ہے۔ ہمارے استعمال سےوہ  معاشی طور پر مستحکم ہورہے  ہے اور وہ پیسہ امت مسلمہ، فلسطین، غزہ، بھارت، افریقہ، ایشیا کے ممالک کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ ویسے بھی ایمانی تقاضا ہے کہ ان اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اور کیا  ایسے  دکانداروں سے خرید و فروخت کریں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قادیانیوں کا حکم عام غیر مسلموں سے بنیادی طور پر مختلف ہے؛ کیونکہ قادیانی باجماع امت مرتد اور زندیق ہیں اور ان کا جرم عام کافروں سے زیادہ  سخت اورسنگین ہے؛ کیونکہ یہ دین اسلام کو کفر اور اپنے کفریہ عقائد اور مسلک کو دین حق اور اسلام سے تعبیر کرتے ہیں ، ایسی صورت حال میں جب عام مسلمان ان کے ساتھ میل جول اور تعلقات رکھیں گے تو سادہ لوح مسلمان ان کو بھی مسلمان سمجھیں گے، جس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے ، اس لیے قادیانیوں سے بائیکاٹ کا بنیادی مقصد "حفاظت ایمان و عقیدہ"ہے،لہذا ان کے اس گھناؤنے جرم کی وجہ سے امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کا فتویٰ یہ ہے کہ قادیانیوں / مرزائیوں سے خرید و فروخت ، تجارت ، لین دین ، سلام و کلام ، کرایہ پر کوئی چیز لینا دینا ، ملنا جلنا ، کھانا پینا ، شادی و غمی میں شرکت ، جنازہ میں شرکت، تعزیت ، عیادت ، ان کے ساتھ تعاون سب شریعت اسلامیہ میں ممنوع اور نا جائز ہے ۔ تاکہ لوگ ارتداد کے فتنے سے محفوظ رہیں۔

اس کے برعکس، عام حالات میں عام غیر مسلموں اور کافروں کے ساتھ خرید و فروخت اور تجارتی معاملات کرنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہہ کر دھوکہ نہیں دیتے اور نہ ہی ان سے سامان خریدنے سے کسی مسلمان کے مرتد ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ اب صیہونی مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور ان کا قتل عام کر رہے ہیں، اس بنا پر وہ کافرمحارب بن چکے ہیں؛  اس  لئے ان حالات  میں ان سے سامان خرید کر نفع پہنچانے سے دشمن اسلام کی معاشی پوزیشن مستحکم ہوتی ہے جو مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ اس لیے ظالم دشمن کی معاشی طاقت کو توڑنے اور ان کے ظلم میں مالی معاونت سے بچنے کے لیے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا شرعاً لازم ہے۔ اور ان کو کسی قسم  کا نفع پہنچانا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ وجوہات کی Top of FormBottom of Formبنا پر قادیانی اور صیہونی مظالم کی معاشی معاون کمپنیوں کی مصنوعات کا استعمال، ان کی خرید فروخت اور  ایسی کمپنیوں میں کام کرنا شرعا جائز نہیں، تاہم اگر یہ اشیاء پہلے سے گھر میں  موجود ہوں تو انہیں استعمال کر نے کی گنجائش ہے،لیکن  آئندہ کے لیے مکمل احتراز کیا جائے۔

غیر مسلموں یا صیہونی اداروں کی پروڈکٹس اگرچہ بظاہر معیاری معلوم ہوں، تب بھی ظالم کی معاشی قوت کو توڑنے اور مظلوم مسلمان بھائیوں کی حمایت کے لیے مقامی مصنوعات کو ترجیح دینا دینی و اخلاقی فريضہ ہے ۔ دوسری طرف جو عام مسلمان دکاندار یہ اشیاء بیچتے ہیں، ان کے پاس دیگر حلال و مباح سامان موجود ہونے کی صورت میں ان سے عام خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، تاہم ان مسلمان دکانداروں کو بھی حکمت، نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ ان مخصوص اشیاء کی بجائے متبادل حلال پروڈکٹس رکھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

حوالہ جات

وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ .

(سورۃ المائدۃ،2)

وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ .

قرئ: ولا تركنوا ، بفتح الكاف وضمها مع فتحالتاء. وعن أبي عمرو: بكسر التاء وفتح الكاف، على لغة تميم في كسرهم حروف المضارعة إلا الياء في كل ما كان من باب علم ۔. ونحوه قراءة من قرأ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ بكسر التاء. وقرأ ابن أبي عبلة: ولا تركنوا على البناء للمفعول من أركنه إذا أماله، والنهى متناول للانحطاط في هواهم والانقطاع إليهم، ومصاحبتهم ومجالستهم وزيارتهم ومداهنتهم، والرضا بأعمالهم، والتشبه بهم، والتزیی بزیهم، ومد العين إلى زهرتهم. وذكرهم بما فيه تعظيم لهم."

) تفسير الكشاف عن حقائق غوامض التنزیل ،/2 433(

" وثانيهما إجماع الأمة على تكفير من خالف الدين المعلوم."

(اکفار الملحدین ، ص: 81)

(المادة 21) : الضرورات تبيح المحظورات.

(المادة 22) : ما أبيح للضرورة يتقدر بقدرها.

) مجلة الأحكام العدلية ،ص: 18)

 

اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو قادیانیوں سے قطع تعلق کر لینا چاہیے ، ان سے رشتہ ناتا کرنا ، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا ، جس کا دین اور عقائد پر اثر پڑے نا جائز ہے ، اور قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا رکھنا خطر ناک ہے ۔ "

(کفایت المفتی ، 1/ 325 (

" بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں... کفار و مشرکین کے ساتھ اس طرح معاملات نہ کیے جائیں جس سے مسلمانوں کی ذلت ظاہر ہو، روایات حدیث وفقہ کے دیکھنے اور حالات موجودہ پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوا کہ اس وقت با وجود اباحت فی نفسہا کے مسلمانوں کے لیے اپنی دکانیں چھوڑ کر غیر مسلموں سے سامان خرید نا ہر گز جائز نہیں ۔ "

(جواہر الفقہ ،  5 /355 (

عبدالرحیم بن سید جنان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی 

  03 /ربیع الثانی /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبد الرحیم بن سید جنان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب