03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پام پے ایپ کی اسلامک ونڈو اور اس کا شرعی حکم
91726خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

 Palm Pay ایپ کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس ایپ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں پام پے (Palm Pay) کی ویب سائٹ، دستیاب دستاویزات اور شریعہ ایڈوائزر سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق پاکستان میں اس کی اسلامک ونڈو کے تحت فی الحال صرف Buy Now, Pay Latter (BNPL)کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جو بیعِ مساومہ کے اصول پر مرتب کی گئی ہے۔

اس کی عملی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ جب کوئی صارف کسی موبائل شاپ سے مطلوبہ موبائل کا انتخاب کرتا ہے تو پام پے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے اس موبائل کو پہلے موبائل شاپ سے خریدتا ہے۔ خریداری کے بعد موبائل شاپ پام پے کو اس موبائل کا IMEI نمبر اور دیگر متعلقہ تفصیلات ارسال کرتی ہے، جس کے ذریعے پام پے کا اس موبائل پر حکمی قبضہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پام پے اسی موبائل شاپ کو اپنی طرف سے وکیل بالتسلیم مقرر کرتا ہے تاکہ وہ پام پے کی جانب سے وہ موبائل صارف کے حوالے کر دے۔ پھر صارف کو اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ موبائل شاپ سے جا کر اپنا موبائل وصول کر لے، اور اس کے بعد طے شدہ اقساط کے مطابق قیمت پام پے کو ادا کرتا ہے۔

مذکورہ تفصیل اور ہمارے سامنے موجود شریعہ کمپلائنس سرٹیفکیٹ کی روشنی میں، اگر معاملہ حقیقتاً اسی طریقۂ کار کے مطابق انجام دیا جاتا ہو، یعنی پام پے پہلے موبائل کی ملکیت اور حکمی قبضہ حاصل کرنے کے بعد اسے بیعِ مساومہ کے ذریعے صارف کو فروخت کرتا ہو، اور اس کے بعد ہی موبائل صارف کے حوالے کیا جاتا ہو، تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ قسطوں پر فروخت کی صورت میں محض قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے طے شدہ قیمت پر کسی قسم کا اضافہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا اگر قسط کی عدم ادائیگی کے باعث کمپنی موبائل کو عارضی طور پر لاک (Lock) کر دیتی ہے، تو اسے دوبارہ فعال (Unlock) کرنے کے عوض کمپنی صرف اتنی رقم وصول کر سکتی ہے جو واقعی اس عمل پر آنے والے حقیقی اخراجات کے برابر ہو۔ ان حقیقی اخراجات سے زائد کوئی اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں۔ لہٰذا اگر کمپنی حقیقتاً صرف اپنے واقعی اخراجات ہی وصول کرتی ہے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر اس عنوان سے اخراجات سے زائد رقم لی جائے تو وہ شرعاً جائز نہیں ہوگی۔

البتہ یہ جواز صرف اسی مساومہ پر مبنی BNPL پروڈکٹ تک محدود ہے، کیونکہ ہمارے علم کے مطابق پام پے کی اسلامک ونڈو میں فی الحال یہی پروڈکٹ شامل ہے۔ اگر مستقبل میں کمپنی کوئی اور مالیاتی یا ادائیگی سے متعلق سروس متعارف کراتی ہے تو اس کے شرعی حکم کا انحصار اس کے معاہدے، عملی طریقۂ کار اور شرعی تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا، لہٰذا اس کا الگ جائزہ لینے کے بعد ہی اس کے متعلق شرعی حکم بیان کیا جا سکے گا۔

حوالہ جات

«النهاية في شرح الهداية - السغناقي» (13/ 10 بترقيم الشاملة آليا):

«بيع مساومة، وهو بيع بالثمن الذي يتفقان عليه.»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 134):

«(فأما) الذي يرجع إلى أحد البدلين وهو الثمن فينقسم في حق البدل، وهو الثمن خمسة أقسام: بيع المساومة وهو مبادلة المبيع بأي ثمن اتفق»

وفی المعاییرالشرعیۃ (62):

3. تملك المؤسسة السلعة وقبضها والتوكيل فيهما:

1-3. تملك المؤسسة السلعة قبل بيعها مرابحة:

1-1-3. يحرم على المؤسسة أن تبيع سلعة بالمرابحة قبل تملكها لها. فلا يصح توقيع عقد المرابحة مع العميل قبل التعاقد مع البائع الأول لشراء السلعة محل المرابحة، وقبضها حقيقة أوحكمًا بالتمكين أو تسليم المستندات المخولة بالقبض (وينظر البند 1/2/3 والبند 4/2/3). كما يعتبر بيع المرابحة غير صحيح إذا كان عقد الشراء الأول باطلًا لا يفيد ملكًا تامًّا للمؤسسة.

2-1-3. يجوز أن يتم تعاقد المؤسسة مع البائع عن طريق لقاء الطرفين وإبرام عقد البيع مباشرة بعد مناقشة تفاصیله، کما يجوز أن يتم ذلك عن طريق إشعارين بإيجاب وقبول متبادلين بالكتابة أوالمراسلة بأي شكل من أشكال الاتصال الحديثة المتعارف عليها بضوابطها المعروفة.

عزیر احمد

دار الافتاء  جامعہ الرشید کراچی

13/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیر احمد بن رضام اکبر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب