03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سورۂ ملک کی آخری آیت میں لفظ «غَوْرًا» پر وقف کرنے کا حکم
92658علم کا بیانتجوید کے مسائل

سوال

 سورۂ ملک کی آخری آیت میں لفظ (غَوْرًا) کے بعد وقف کی کوئی علامت موجود نہیں۔ کیا تلاوت کے دوران اس لفظ پر وقف کرنا یا اسے ملا کر پڑھنا دونوں درست ہیں؟ اس کی تجویدی وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سورۂ ملک کی آخری آیت)قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ(میں لفظ )غَوْرًا( پر تجوید اور معنی کے اعتبار سے وصل (ملا کر پڑھنا) بہتر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ )إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا(جملۂ شرط ہے اور )فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ(اس کا جوابِ شرط ہے۔ اس لیے کلام کا مفہوم اور ربط برقرار رکھنے کے لیے اسے ملا کر پڑھنا اولیٰ ہے۔

البتہ اگر سانس ختم ہو جائے یا کسی ضرورت کی بنا پر )غَوْرًا( پر وقف کرنا پڑے تو یہ بھی جائز ہے۔ اس سے نہ تلاوت میں کوئی خرابی آتی ہے اور نہ نماز میں، بشرطیکہ بعد میں وہیں سے یا آگے مناسب طریقے سے تلاوت جاری کی جائے۔

حوالہ جات

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب