03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تجرباتی یا طبی مشورے کو شرعی وظیفہ سمجھنے کا حکم
92660جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عمل جناب عبد القدیر خان صاحب (علمی و ادبی شخصیت) نے روزنامہ جنگ میں تحریر فرمایا تھا۔ کیا اس قسم کے تجرباتی یا طبی مشورے کو شرعی وظیفہ سمجھ کر اختیار کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی ڈاکٹر، محقق یا علمی شخصیت نے اپنے ذاتی تجربے یا مشاہدے کی بنیاد پر کوئی ایسا مشورہ دیا ہو جس میں شرعاً کوئی ممنوع امر نہ ہو، تو اسے ایک تجرباتی یا طبی مشورہ (مجرب عمل) سمجھ کر اختیار کرنا جائز ہے۔

البتہ اس سلسلے میں یہ اصول ملحوظ رہنا ضروری ہے کہ تجرباتی علاج اور شرعی عبادت میں فرق ہے۔ کسی عمل کو مسنون وظیفہ یا ثابت شدہ دینی عمل قرار دینے کے لیے قرآن و سنت سے معتبر دلیل ضروری ہوتی ہے، جبکہ مجرب اعمال کی بنیاد ذاتی تجربے پر ہوتی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص کو محض دعا، رقیہ یا مجرب علاج کے طور پر پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے سنتِ نبوی ﷺ، ثابت شدہ حدیث یا لازمی شرعی وظیفہ سمجھنا یا اسی حیثیت سے دوسروں میں بیان کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية:10\160

يشترط في اهل الخبرة الذين يعمل بقولهم... ان تثبت خبرتهم بتجارب مناسبة كالطبيب والمهندس ونحوهما.

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب