| 92673 | نماز کا بیان | قراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان |
سوال
فجر اور عشاء کی نماز میں سنت کے مطابق طوالِ مفصل کی سورتیں پڑھی جاتی ہیں، لیکن موجودہ دور میں نمازیوں کو ملازمت، طلبہ کو تعلیم، اور دیگر ضروریات کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں قراءت میں تخفیف کی شرعی حدود کیا ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں فجر میں طوالِ مفصل اور عشاء میں اوساطِ مفصل کی سورتیں پڑھنا سنت ہے۔ تاہم اگر مقتدیوں میں ملازمت پیشہ افراد، طلبہ، بیمار، بوڑھے یا ضرورت مند افراد ہوں تو امام کے لیے غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے قراءت میں تخفیف کرنا جائز ہے۔
البتہ تخفیف کا مطلب سنت کو بالکل ترک کرنا نہیں، بلکہ مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے مناسب اختصار کرنا ہے۔ شدید ضرورت کی صورت میں فجر اور عشاء میں مختصر سورتیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں، حتیٰ کہ سورۂ فاتحہ کے بعد تین مختصر آیات یا ایک ایسی آیت جو تین مختصر آیات کے برابر ہو پڑھ لینے سے واجب قراءت ادا ہوجاتی ہے اور نماز درست ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع ردا لمحتار:1/457،458:
قوله( ذكره الحلبي): أي في شرحه الكبير عن المنية: وإن قرأ ثلاث آيات قصارا أو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاث آيات قصار، خرج عن حد الكراهة المذكورة ،يعني كراهة التحريم.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


