| 92665 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
عموماً پٹرول، بجلی، گیس اور دیگر اشیاء کی قیمتیں مثلاً 56، 75 یا 32 پیسے تک مقرر کی جاتی ہیں، لیکن عملی طور پر متعلقہ ادارے یا دکاندار یہ پیسے واپس نہیں کرتے۔ اس طرح بقایا رقم ہڑپ کر لینا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی شخص کے پیسے اس کی رضامندی کے بغیر رکھ لینا شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا اگر پٹرول پمپ، دکان، بجلی، گیس یا کسی دوسرے ادارے کی طرف سے صارف کے کچھ پیسے بقایا بنتے ہوں تو انہیں واپس کرنا ضروری ہے۔ ایک دو پیسے بھی صارف کا حق ہیں، اس لیے انہیں معمولی سمجھ کر اپنے پاس رکھ لینا درست نہیں۔
البتہ اگر صارف اپنی خوشی سے کہہ دے کہ یہ بقایا پیسے آپ رکھ لیں، تو انہیں رکھنا جائز ہے۔
اسی طرح اگر 504 روپے 60 پیسے کا پٹرول بنتا ہو تو پمپ والا بہتر یہ ہے کہ 505 روپے کے برابر پٹرول دے دے۔ اسی طرح دکاندار بقایا پیسوں کے بدلے کوئی معمولی چیز، مثلاً ٹافی وغیرہ، دے سکتا ہے، بشرطیکہ گاہک اس پر راضی ہو۔
حوالہ جات
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
06/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


