03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکے میں سے کسی وارث کو مخصوص اشیاء دینے کے معاہدے کی شرعی حیثیت
77698میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب :میں مدثرسردارولدسردارمحمدمرحوم مسلمان حنفی گھرانےسےتعلق رکھتاہوں ،میرےوالد کےانتقال کےبعدہم تمام ورثاءنےمیٹنگ رکھی جس میں یہ متعین کیاگیاکہ مرحوم کےاثاثوں میں سےکون سی چیزیں مجھے دی جائیں گے؟

مرحوم کےورثہ میں ایک بیوہ،تین بیٹیاں اوردوبیٹےشامل ہیں ،بیٹیوں کی اورخوداپنی نمائندگی والدہ مقصودہ شاہین نےکی،بھائی مبشرسردارنےاپنی نمائندگی کی، اورمیں نےاپنی،فیصلہ یہ طےپایاکہ والدکی جائیدادمیں سےایک زمین کاٹکڑابنام "جوبلی پراپرٹی" مجھے )سائل کو (ملےگی ،اس کےعلاوہ باقی سازوسامان میں سےبھی کچھ مجھےملےگاجس کی میں ان کوفہرست بناکردوں گا۔بقایانقدی کی صورت میں ہوگا،یہ تمام املاک ،نقدی ،جائیدادمجھے میرےشرعی حصےکی قیمت کےبرابرملےگی،تمام املاک جائیداد،گاڑیاں وغیرہ وغیرہ کی قیمت کاتعین بھی میں نےکرکےباقی ورثہ کوبتانا ہے۔بیوہ کاحصہ علیحدہ کرنےکےبعدجوبچتاہےاس کےکل سات حصےبنتےہیں،چارحصےدوبیٹوں کےاورتین حصے بیٹیوں کے،یوں کل ملاکرمرحوم کی املاک کےآٹھ حصےقرارپاتےہیں ،جس میں سےدوحصوں کےبرابرمیراحصہ شمار ہوگا۔بعدازاں وکیل کی مددسےایک قانونی دستاویزبھی تیارکی جائےگی جس میں تمام ورثہ کےمابین تقسیم ہونے والےاثاثوں کودرج کرکےرکھاجائےگا،اور"جوبلی پراپرٹی" میرےنام پرمنتقل کرادی جائےگی ،ان تمام نکات پر فریقین متفق ہوئے اورطےہواکہ مزیدکوئی تبدیلی رونمانہ ہوگی جیساکہ پراپرٹی تبدیل کرناوغیرہ۔

یہ میٹنگ بروزاتوار7نومبر2021کومنعقدہوئی اورسازوسامان،نقدی مطلوب کی فہرست ورثہ کودینےکےلیے 21نومبر2021کاوقت طےپایا،جبکہ جائیدادکی نام زدگی تواسی دن ہی طےپا چکی تھی، میں نےفہرست13دسمبر  2021کووالدہ کومہیاکی،اوریہ تاخیرکی وجہ ایک توصحت کی ناسازی دوسرایہ کہ پراپرٹی بروکروں سےدرست قیمت کےتعین میں کافی وقت صرف ہوا ۔اس ماہ کی 19تاریخ کومیرےبھائی نےورثہ کےسامنےیہ حکم فرمایاہےکہ چونکہ سازوسامان کی فہرست مہیاکرنےمیں تاخیرہوئی لہذامدثرکےنام پرنامزدگی کی جانےوالی جگہ"جوبلی پراپرٹی " اسے نہیں دی جائےگی ،بلکہ دوسری زمین دی جائےگی جوشہرسےباہرویرانےمیں ہے،اور میرےبھائی نےیہ فیصلہ اس لیےتبدیل کیا کیونکہ جوبلی پراپرٹی والی زمین میرابھائی خودلیناچاہتاہے۔چنانچہ میں اس بات سےراضی نہ ہوا،جس پروالدہ نےکہا کہ اب یہ زمین کسی کو نہیں ملےگی بس میں خودہی لوں گی ،اوریوں جومعاہدہ نومبر2021میں طےپایاوہ منسوخ ہوگیاہے۔

قبلہ محترم راہنمائی فرمائیں یہ معاہدہ جس کی نقل ساتھ لف ہے،اوریہ معاہدہ میرےچچاشیرمحمدنے تحریربھی کیااور ساتھ ساتھ  میری والدہ کےبطورگواہ دستخط بھی کروائے،جبکہ میں اورمیرابھائی معاہدہ کرنےوالے فریقین تھے،کیایہ معاہدہ منسوخ ہےاوراس کی کوئی شرعی حیثیت نہ ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں مذکورہ صورت ورثاء کے درمیان  ایک وعدے اور یادداشت   کی حیثیت رکھتی ہے، جسےتقسیم کے اصولوں کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے ترکے کی باقاعدہ عملی تقسیم قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی تخارج( کسی ایک وارث کا ترکے میں سے کچھ حصہ لے کر باقی چھوڑدینا) کہا جاسکتا ہے،کیونکہ تخارج کے لیے اس عوض کا طے شدہ اور معلوم ہونا ضروری ہے جسے لے کر کوئی وارث اپنا باقی حصہ چھوڑ رہا ہے ،لہذا مذکورہ معاہدے کی شرعی حیثیت ایک وعدے کی ہے اور جب تک وعدے کے مطابق عملا ترکہ تقسیم نہیں ہوجاتا ہر وارث اپنے حصے کے بقدر ترکے میں بدستور مشترکہ مالک رہے گا،چنانچہ نہ تو کسی وارث کو ترکے کی کسی متعین چیز پر کوئی خصوصی حق حاصل ہوگا اور نہ ہی کسی وارث کی مکمل  رضامندی کے بغیر اسے اپنا حصہ چھوڑنے پر مجبور کرنا درست ہوگا،اگرچہ اخلاقی طور پر امانت اور ایفاء عہد کا تقاضہ تو یہی ہےکہ تمام ورثاء اپنے 7 نومبر والے وعدے پر عمل پیرا ہوں اور بلاوجہ اس سے انحراف نہ کریں،ورنہ وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا،البتہ اگر وہ اس وعدے سے منحرف ہوتے ہیں تو قانونی طور پر 7 نومبر والے معاہدے کو لازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ترکے کی عملی تقسیم کا درست طریقہ یہ ہے کہ ورثاء کےجتنے شرعی حصے بنتے ہوں اس کے برابر ترکے کے حصے بناکر قرعہ اندازی کرلی جائے ۔قرعہ اندازی کے نتیجے میں جس وارث کو جو مل جائے وہی اس کا حق ہوگا،ہاں اگر ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے حصوں کا تبادلہ کرنا چاہیں تو شرعا ممنوع نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (11/ 5)

الأصل في التخارج أنه عقد صلح بين الورثة  لإخراج أحدهم، ولكنه يعتبر عقد بيع إن كان البدل المصالح عليه شيئا من غير التركة. ويعتبر عقد قسمة ومبادلة، إن كان البدل المصالح عليه من مال التركة، وقد يكون هبة أو إسقاطا للبعض، إن كان البدل المصالح عليه أقل من النصيب المستحق.

الموسوعة الفقهية الكويتية (11/ ,76)

شروط صحة التخارج:

للتخارج شروط عامة باعتباره عقد صلح،وشروط خاصة بصور التخارج تختلف باختلاف الصور، وستذكر عند بيانها.أما الشروط العامة فهي… أن يكون البدل مالا متقوما معلوما منتفعا به مقدورا على تسليمه، فلا يصح أن يكون البدل مجهولا جنسا أو قدرا أو صفة، ولا أن يكون مما لا يصلح عوضا في البيع.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/  328،دار احياء التراث العربي)

"ولا يقسم الجنسين بعضهما في بعض" لأنه لا اختلاط بين الجنسين فلا تقع القسمة تمييزا بل تقع معاوضة، وسبيلها التراضي دون جبر القاضي

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 329،دار احياء التراث العربي)

"وينبغي للقاسم أن يصور ما يقسمه" ليمكنه حفظه "ويعدله" يعني يسويه على سهام القسمة ويروى يعزله: أي يقطعه بالقسمة عن غيره "ويذرعه" ليعرف قدره "ويقوم البناء" لحاجته إليه في الآخرة "ويفرز كل نصيب عن الباقي بطريقه وشربه حتى لا يكون لنصيب بعضهم بنصيب الآخر تعلق" فتنقطع المنازعة ويتحقق معنى القسمة على التمام "ثم يلقب نصيبا بالأول، والذي يليه بالثاني والثالث على هذا ثم يخرج القرعة، فمن خرج اسمه أولا فله السهم الأول، ومن خرج ثانيا فله السهم الثاني".

قال اللہ تبارک و تعالی:{وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا} [الإسراء: 34]

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

 7 صفر1444 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب