| 77088 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام
میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں ،جس کا احوال کچھ یوں ہے کہ پہلی بیوی بوجہ بیماری انتقال کرگئی ،جس کے بعد دوسری شادی کی۔ پہلی بیوی کی اولاد میں 3 لڑکے ،جبکہ دوسری بیوی سے 3 لڑکے ایک لڑکی ہے۔وراثت میں پہلی بیوی کا شرعی حق کیا بنتا ہے؟راہنمائی کیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلی بیوی کی وفات چونکہ شوہر سے پہلے ہوچکی تھی ،ا س لیے شوہر کی میراث میں پہلی بیوی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (3/ 22)
(وللإرث شروط ثلاثة) :
ثانيها: تحقق حياة الوارث بعد موت المورث
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (10/ 7707)
يشترط لثبوت الحق في الميراث ثلاثة شروط: وهي موت المورث، وحياة الوارث، ومعرفة جهة القرابة
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11ذو القعدہ1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


