| 77221 | جائز و ناجائزامور کا بیان | رشوت کا بیان |
سوال
کسی دنیاوی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آفیسر کی خدمت کرنا یعنی ہوٹل وغیرہ میں کھانا کھلانا تاکہ ہمارا کام ہوجائے کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آفیسر کو کھانا کھلانے یا کسی اور طرح اس کی خدمت کرنے کا یہ عمل کسی کام کو ناحق طور پر کروانے یا کسی غلطی وغیرہ کو چھپانے کے لیےاختیار کیا جارہا ہے تو یہ رشوت ہے جس کا لینا اور دینا دونوں ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 3629(
وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد
المستدرك على الصحيحين للحاكم (4 / 115(
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الراشي و المرتشي هذا حديث صحيح الإسناد و لم يخرجاه (واقره الذهبي ورواه ابوداودوالترمذي وابن ماجةوابن حبان واحمدوابن ابي شيبة(
المعجم الكبير للطبراني (20 / 99(
عن عبد الله بن عمرو , قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:"الراشي والمرتشي في النار
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
7ذوالقعدہ1443 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


