03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی وصیت کے عملی نفاذ کے اختیار کا حکم
76812وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

محترم مفتیان کرام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ  والد کی وفات کے تین ماہ بعد والدہ کا انتقال ہوا تھا۔والدہ مرحومہ نے عدت کے دوران اپنے ایک بیٹے کو بطور خواہش یہ بات کہی تھی کہ میں اپنے حصے کی رقم سے حج پہ جانا چاہتی ہوں اور اگر نا جا سکوں تو میرے حصے کی رقم مسجد اور قبرستان کی ضروریات میں خرچ کردینا ،اس بھائی نے اپنے دو بھائیوں کو بلوایا اور والدہ سے کہا کہ آپ جو کہہ رہی تھی وہ ان دو بھائیوں کے سامنے دوبارہ کہہ دیں والدہ نے دوبارہ اسی طرح کہہ دیا۔اس پر بڑے بھائی سلیم اصرار کررہے ہیں کہ میں خود  والدہ کاپورا حصہ والدہ کی خواہش کے مطابق خرچ کروں گا ،مگر دیگر ورثاء کا کہنا ہے کہ رقم سب میں تقسیم کی جائے اور ہر کوئی اپنی مرضی سے والدہ کی وصیت کو پورا کرے۔کون سا عمل شریعت کے نزدیک درست ہے ،جس میں تنازع بھی نا ہو اور دوسری بات یہ کہ والدہ کی کل رقم کو وصیت میں خرچ کیا جائے گا یا اس کا کچھ حصہ؟

        تمام ورثاء نے اس سوال نامے کو بغور پڑھ لیا اور حلفیہ اقرار کرتے ہیں کہ اس سوال کا جوبھی شرعی فیصلہ آئے گا وہ سب کو دل وجان سے منظور ہوگا اور اس پر عملدرآمد کرنے میں ذرا بھی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس بیٹے کو والدہ نے بلواکر دوگواہوں کے سامنے اپنے بعد وصیت پوری کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی وہ ان کا وصی ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ ان کی وصیت پر مکمل امانت کے ساتھ عملدارآمد کرے۔چونکہ مشورہ باعث خیر ہے ،لہذا دیگر بہن بھائیوں سے بھی اس ذمہ داری کوبہتر طریقے سے انجام دینے کے لیے مشورہ کیا جاسکتاہے۔

والدہ کی وصیت کی تکمیل ان کی وفات کے وقت ان کی ملکیت میں موجود کل مال کے ایک تہائی حصے سے کرنا لازم ہے۔اس سے زائد نہیں ،البتہ تمام ورثاء اگر راضی ہوں تو ایک تہائی سے زیادہ بھی دیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 393)

وأما) الوصية بالإنفاق على فلان، وأوصى بالقرب فحكمها وجوب فعل ما دخل تحت الوصية؛ لأنه هكذا أوصى، ويعتبرذلك كله من الثلث، والله - سبحانه وتعالى - أعلم.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 230)

(ثم وصيته) أي ثم تنفذ وصيته من ثلث ما بقي بعد التجهيز والدين لما تلونا.وفي أكثر من الثلث لا تجوز إلا بإجازة الورثة

شیرعلی

دارالافتاء جامعۃ الرشید

16شوال1443 ہجری

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شیرعلی بن محمد یوسف

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب