| 77096 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
محترم مفتیان کرام
ہمارے گاؤں میں تقریبا دو سو گھر ہیں۔گاؤں والوں نے کراچی میں ایک مشترکہ فنڈ بنایا جس میں کم وبیش چھ یا سات لاکھ کا فنڈ تھا۔گاؤں والے اکھٹے مشورہ کرکے فنڈ مجھے دے رہے تھے کہ ایک آدمی اس مشورے کے بعد جرگے میں آیا اور کہا کہ یہ فنڈ میں اسے نہیں دیتا ہوں،کسی دوسرے کو دے دیں ۔یہ فنڈ میری تجارت کے لیے بہت فائدہ مند تھا۔اب میں اس آدمی سے اس فنڈ کا نقصان مانگتا ہوں کہ تم نے میرا بہت نقصان کیا کہ فنڈ میرے علاوہ کسی اور کو دے دیا ۔اس فنڈ میں میرا بھی حصہ ہے اور میرے مخالف کا بھی حصہ ہے۔کیا میں اس آدمی سے اپنا نقصان مانگ سکتا ہوں؟ شریعت کی روشنی میں راہنمائی کیجیے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گاؤں والوں کا مشترکہ فنڈ سے آپ کے ساتھ تعاون کرنے کا محض مشورہ کرنے سے آپ متوقع فنڈ کے مالک نہیں بنےتھے،لہذا اس مشورے کی تبدیلی کی رائے دینے والے شخص کو کسی بھی قسم کا نقصان دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں،البتہ اگر وہ دلی خوشی او رمکمل رضامندی کے ساتھ بغیر کسی جبر و اکراہ کے از خود آپ کو کچھ ہدیہ کردے تو آپ کے لیے لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 396)
إن ركن الهبة الإيجاب والقبول؛ لأن الهبة عقد (وقيام العقد يكون بالإيجاب والقبول) ؛ لأن ملك الإنسان لا ينتقل للغير ما لم يملك من طرفه للغير ويوجب المالك ذلك كما أن إيجاب الهبة هو إلزام الملك للغير ولا إلزام بدون قبول (الكفاية والقهستاني)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 397)
وتتفرع بعض مسائل على انعقاد الهبة بالإيجاب والقبول:
1 - مسألة: لا تنعقد الهبة بوعد الهبة مثلا لو وعد شخص آخر قائلا له: إنني سأهبك ما في ذمتك من الدين لي إلا أنه لم يهبه إياه فلا يجبر ذلك الشخص على الهبة للوعد الذي وقع منه إذ ليس للوعد من حكم " البهجة وعلي أفندي.
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
5ذوالقعدہ1443 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


