| 91569 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
دادا ابو کی تقریباً 20 کروڑ روپے کی جائیداد ہے۔ ان کی پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ایک بیٹی کو دادا ابو نے کہا کہ اگر ابھی اپنا حصہ لینا ہے ،تو 70 لاکھ روپے لے لو، ورنہ میری وفات کے بعد وراثت میں اپنا حصہ لے لینا۔اس بیٹی نے 70 لاکھ روپے لے لیے اور ایک اسٹامپ پیپر پر یہ معاہدہ کیا کہ اب وہ دادا ابو کی جائیداد میں کسی مزید حصے کی حق دار نہیں ہوگی۔بعد میں اس بیٹی نے مبینہ طور پر وہ اسٹامپ پیپر چوری کر لیا۔اب یہ دعویٰ کرتی ہے کہ 70 لاکھ روپے اسے تحفہ (Gift) کے طور پر ملے تھے، وراثت کے طور پر نہیں ۔لہٰذا وہ والد کی وفات کے بعد بھی وراثت میں اپنا حصہ طلب کرے گی۔ دوسری بیٹی کو دادا ابو صرف 50 لاکھ روپے دینے پر آمادہ ہیں، لیکن وہ اسے قبول نہیں کرتی کیونکہ اس کے مطابق اس کا شرعی حق اس سے کہیں زیادہ بنتا ہے۔ میرے"ضیاء چچا "نے دادا ابو کو مشورہ دیا کہ اپنا سب سے قیمتی کمرشل مکان، جو کل جائیداد کا تقریباً 70 فیصد ہے، پانچوں بیٹوں کے نام کر دیں ،تاکہ بعد میں دونوں بیٹیاں اس میں وراثت کا دعویٰ نہ کر سکیں۔ دادا ابو اس بات پر آمادہ ہو گئے اور کمرشل مکان بیٹوں کے نام کرنے کی کارروائی شروع کر دی، تاہم شرط رکھی کہ اپنی زندگی میں کرایہ خود وصول کریں گے۔ بیٹے مکان فروخت نہیں کریں گے۔بعد میں باقی جائیداد بھی بیٹوں کے نام کرنے کی بات ہوئی ۔درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں ۔
.1کیا کمرشل مکان جو کل ترکہ کا 70فیصد ہے، صرف بیٹوں کے نام کرنا شرعاً درست ہے؟ 70لاکھ لینے اور معاہدہ کرنے کے بعد پہلی بیٹی کا وراثت میں حق باقی رہتا ہے یا نہیں؟
.2کیا دونوں بیٹیوں کا اس جائیداد میں شرعی حق باقی رہے گا؟
تنقیح: سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تک کمرشل مکان صرف بیٹوں کے نام کرنے کی بات ہوئی ہے، نہ تو اسے ان کے نام منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی والد صاحب نے انہیں اس کا قبضہ دیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ والد کی زندگی میں اس کی جائیداد سے بیٹیوں اور بیٹوں کو کسی قسم کے مطالبے کا حق نہیں۔" وراثت " مورث کے انتقال کے بعد جاری ہوتی ہے۔ والد صاحب کا اپنی زندگی میں کسی کو جائیدا د دینا شرعاًہبہ ہے۔ البتہ اگر مورث اپنی زندگی میں کسی وارث کو اس عوض پر مال دے ،کہ اس کے انتقال کے بعد میراث سے حق نہیں لے گا، تو ایسا کرنا درست ہوگا ؛کیونکہ حق ِمیراث کے عوض لیا ہوا مال قرض شمار کیاجائے گا ،گویا وارث نے اپنا قرض وصول کیا ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بیٹی نے وعدہ کیاتھا کہ 70لاکھ کے بدلے میراث سے دستبردار ہوجائے گی،تو اسے اس کی پاسداری کرنی چاہیے ۔تاہم مذکورہ صورت میں اگر بیٹی کا شرعی حصہ70لاکھ سے زائد بنتاہو، تو وراثت کی تقسیم کے وقت وصول شدہ رقم منہاکرکے بقیہ رقم لے سکتی ہے ۔
یہ بھی ذہن میں رہے کہ دادا جان کا پوری جائیداد یااس کا اکثر حصہ، اکیلے بیٹوں کی ملکیت میں دینا ،اور بیٹیوں کو محروم کرنا گناہ ہے۔لیکن اگر انہوں نے یہ جائیداد اپنے بیٹوں کو ہبہ کردی ، اور قبضہ بھی کرا دیا،تو گناہ گار ہونے کے باوجود والد کے انتقال کے بعد بیٹیوں کا اس جائیداد میں حق نہیں ہوگا۔لیکن صرف نام کرنے سے یا کروانے کی آمادگی ظاہر کرنے سے بغیر قبضے کے یہ جائیداد بیٹوں کی ملکیت میں نہیں آئے گی، بلکہ انتقال کے بعد شرعی حصص کے مطابق تمام ورثہ میں تقسیم کی جائے گی ۔سوال میں جو شرائط ذکر ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ہبہ تام نہیں ہوگا ،وہ کمرشل مکان بدستور والدکی ملکیت میں ہی رہے گا ۔لہذا دادا جان اگراپنی زندگی میں ہی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں،تو ان کو چاہیے کہ تمام اولاد(بیٹے ،بیٹیوں) کےدرمیان برابری کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقسیم کریں یا وراثت کے اصول کے مطابق بھی تقسیم کرکے ان کے حصوں پر انہیں قبضہ دے سکتے ہیں تاکہ بعد میں کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو ۔
2۔ جس بیٹی نے زندگی میں کچھ بھی وصول نہیں کیا، تو وہ والد کےانتقال کے بعد ترکہ سے اپنے حصہ کی حق دار ہوگی ۔ جبکہ وصول کرنے والی بیٹی، اپنے حصے سے وصول شدہ رقم منہاکرکے بقیہ رقم بھی لے سکتی ہے ۔
حوالہ جات
سورۃ النساء ،رقم الایۃ :10
)يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف (.
تبيين القائق (4/ 196)
ثم اعلم أن للإنسان أن يتصرف في ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا .
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288):
(قوله وهبة الأب لطفلة تتم بالعقد) لأن قبض الأب ينوب عنه۔۔۔وقيد بالطفل لأن الهبة للولد الكبير لا تتم إلا بقبضه ولو كان في عياله كذا في المحيط وأطلق الهبة فانصرفت إلى الأعيان فاستفيد منه أن الأم لو وهبت مهرها لولدها قبل أن تقبضه لا يتم إلا بقبض الولد بعد أن تسلطه عليه كذا في فتاوى قاضي خان.(قوله فروع) يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط ۔۔۔وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 31):
قال رحمه الله (فإن وقع عن مال بمال بإقرار اعتبر بيعا)؛ لأن معنى البيع قد وجد فيه، وهو مبادلة المال بالمال عن تراض فتجري فيه أحكام البيوع، وهذا؛ لأن الأصل في الصلح أن يحمل على أشبه العقود له فتجري عليه أحكامه؛ لأن العبرة للمعاني دون الصور.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 655):
قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا
كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 / صفر المظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب |


