03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کمیٹی کے اختیارات اور غلط بیانی کا شرعی حکم
90412وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

تقریباً چار سال قبل ایک صاحب نے ایک  مسجد میں ناظرہ و حفظِ قرآن کی تعلیم کے لیے قاری مقرر کرنے کی خواہش ظاہر کی ،تاکہ یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ ہو۔ صدر صاحب نے کمیٹی کی باقاعدہ منظوری کے بغیر اپنے بھائی کو مقرر کردیا اور بعد میں صرف اطلاع دی۔ ابتدا میں تدریس کا وقت ظہر تا عصر تھا، مگر بعد میں بغیر کمیٹی کی اجازت کے مغرب کے بعد کردیا گیا۔

مالی تعاون کرنے والے صاحب کو یہ بتایا جاتا رہا کہ ایک بچہ۱۲پارے  حفظ کرچکا ہے، جبکہ اس بچے نے کہیں اور حفظ کیا تھا۔وہ  بھی صرف دورکے لیے آتا ہےجب وہ صاحب تشریف لاتے ہیں ،ورنہ نہیں آتا، حالانکہ  حقیقت  کے مطابق  بچہ قاری صاحب کا اپنا بیٹا تھا ،جو کسی اور مدرسے میں پڑھتا ہے۔ مزید یہ کہ قاری صاحب کئی ماہ غیر حاضر رہے، پھر بھی تنخواہ جاری رہی، اور اکثر اپنی جگہ کسی اور کو بھی بھیجتے رہے۔ ٹرسٹ کے اصول کے مطابق فیصلے اکثریتی رائے سے ہونے تھے، مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

صدر صاحب کا ایسا کرنا اگر چہ ٹرسٹ میں ان کو اختیار بھی حاصل ہے، ٹھیک ہے؟ سیکریٹری صاحب کا ان صاحب کو استفسار کرنے پر یہ بتانا کہ ایک بچہ 12 پارے حفظ کرچکا ہے، حالانکہ اس نے حفظ کہیں اور کیا ہے ،کیا یہ غلط بیانی میں شمار نہیں ہوگا ؟  میں خود بھی کمیٹی میں ہوں۔تین سے چار ہفتے پہلے یہ ساری باتیں مجھے معلوم ہوئیں۔میں نے سیکریٹری صاحب سے ان صاحب کا نمبر مانگا  تاکہ  میں ان سے بات کرسکوں، مگر انہوں نے نمبر نہیں دیا ۔اس بات پر میں نے اپنی رکنیت سے استعفٰی دے دیا ہے ۔کیا میرا ایسا کرنا صحیح تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد و مدرسہ کی منتظم کمیٹی بنانے کا مقصد اس کے نظم کو اچھے طریقے سے باہمی مشاورت سے چلانا ہوتا ہے ۔اس میں ہر ایک کے اختیارات کا تعین بھی ہوتا ہے، ان اختیارات سے تجاوز  کرنا جائز نہیں ہوتا ۔

صورت مسئولہ اگر حقیقت کے مطابق ہے اور  واقعتاً صدر صاحب نے اپنے اختیارات سے تجاوزکرتے ہوئے بدعنوانی کا مظاہرہ کیا ہے، تو  یہ شرعا جائز نہیں ۔صدر صاحب کو توبہ و استغفار کرنی چاہیے اور آئندہ کے لیے معاملے کو ٹھیک کرنا چاہیے۔

صدر صاحب یا ان کے سیکریٹری کا غلط بیانی کرنا اور کسی معاون کو دھوکہ دینا شرعا اور اخلاقا ًجائز نہیں۔ ان کو اس پر توبہ و استغفار کر کے امانت و دیانت سے ٹرسٹ کے امور سرانجام دینے چاہییں۔

  آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام غلط تھا اور اس کی اصلاح آپ کے بس میں نہیں تھی تو آپ نے جو استعفٰی دیا ہے ،وہ درست ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 380):

مطلب في شروط المتولي (قوله: غير مأمون إلخ) قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به، ويستوي فيه الذكر والأنثى وكذا الأعمى والبصير وكذا المحدود في قذف إذا تاب لأنه أمين وقالوا: من طلب التولية على الوقف لا يعطى له وهو كمن طلب القضاء لا يقلد اهـ والظاهر: أنها شرائط الأولوية لا شرائط الصحة وأن الناظر إذا فسق استحق العزل ولا ينعزل كالقاضي إذا فسق لا ينعزل على الصحيح المفتى به.

الهداية في شرح بداية المبتدي:3/243

قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 69):

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى ۔۔۔۔۔۔الخ

حنبل اکرم

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

25 /ذوالقعدہ  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب